تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 325
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۵ سورة النساء نہیں سمجھنا چاہیے یہ بہت ہی خطر ناک بیماری ہے جس سے انسان بہت جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔الحکم جلد 4 نمبر ۱۴ مورخه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۵ صفحه ۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو صدیق کا خطاب دیا ہے تو اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ میں کیا کیا کمالات تھے۔یہ بھی فرمایا ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اس چیز کی وجہ سے ہے جو اس کے دل کے اندر ہے اور حقیقت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جو صدق دکھایا ہے اس کی نظیر ملنی مشکل ہے اور سچ تو یہ ہے کہ ہر زمانہ میں جو شخص صدیق کے کمالات حاصل کرنے کی خواہش کرے اسے ضروری ہے کہ ابوبکری خصلت اور فطرت کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لیے جہاں تک ممکن ہے مجاہدہ کرے اور پھر جہاں تک ہو سکے دعا کرے جب تک ابوبکری فطرت کا سایہ اپنے اوپر ڈال نہیں لیتا اور اسی رنگ میں رنگین نہیں ہو جاتا وہ کمالات حاصل نہیں ہو سکتے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۶ مورخه ۱۰ رمئی ۱۹۰۵ ء صفحه ۲) صدق کامل اس وقت تک جذب نہیں ہوتا جب تک تو بتہ النصوح کے ساتھ صدق کو نہ کھینچے قرآن کریم ہوتا نہ تمام صداقتوں کا مجموعہ اور صدق تام ہے جب تک خود صادق نہ بنے صدق کے کمال اور مراتب سے کیوں کر واقف ہو سکتا ہے۔ہوسکتا۔صدیق کے مرتبہ پر قرآن کریم کی معرفت اور اس سے محبت اور اس کے نکات و حقائق پر اطلاع ملتی ہے کیونکہ کذب کذب کو کھینچتا ہے اس لیے کبھی بھی کاذب قرآنی معارف اور حقائق سے آگاہ نہیں ہوسکتا یہی وجہ ہے کہ لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ فرمایا گیا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ / مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۱) مرتبہ شہادت سے وہ مرتبہ مراد ہے جبکہ انسان اپنی قوت ایمان سے اس قدر اپنے خدا اور روز جزا پر یقین کر لیتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ کو اپنی آنکھ سے دیکھنے لگتا ہے تب اس یقین کی برکت سے اعمال صالحہ کی مرارت اور تلخی دور ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی ہر ایک قضاء وقدر بباعث موافقت کے شہد کی طرح دل میں نازل ہوتی اور تمام صحن سینہ کو حلاوت سے بھر دیتی ہے اور ہر ایک ایلام انعام کے رنگ میں دکھائی دیتا ہے۔سوشہید اس شخص کو کہا جاتا ہے جو قوت ایمانی کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا مشاہدہ کرتا ہو اور اس کے تلخ قضاء قدر سے شہد شیریں کی طرح لذت اٹھاتا ہے اور اسی معنے کے رو سے شہید کہلاتا ہے اور یہ مرتبہ کامل مومن کے لیے بطور