تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 321
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۱ سورة النساء دوسرے ے لفظوں میں ہم خدا تعالیٰ سے آسمانی نشان طلب کرتے ہیں اور جس میں یہ طلب نہیں اس میں ایمان بھی نہیں ۔ ہماری نماز کی حقیقت یہی طلب ہے جو ہم چار رنگوں میں پنج وقت خدا تعالیٰ سے چار نشان مانگتے ہیں اور اس طرح پر زمین پر خدا تعالیٰ کی تقدیس چاہتے ہیں تا ہماری زندگی انکار اور شک اور غفلت کی زندگی ہو کر زمین کو پلید نہ کرے اور ہر ایک شخص خدا تعالیٰ کی تقدیس تبھی کر سکتا ہے کہ جب وہ یہ چاروں قسم کے نشان خدا تعالیٰ سے مانگتا ر ہے۔ حضرت مسیح نے بھی مختصر لفظوں میں یہی سکھا یا تھا۔ دیکھو متی باب ۸ آیت ۹۔ پس تم اسی طرح دعا مانگو کہ اے ہمارے باپ جو آسمان پر ہے تیرے نام کی تقدیس ہو۔ ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۳۲۷، ۳۲۸) نبی کا لفظ نبأ سے نکلا ہے نبأ کہتے ہیں خبر دینے کو اور نبی کہتے ہیں خبر دینے والے کو یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کلام پا کر جو غیب پر مشتمل زبر دست پیشگوئیاں ہوں مخلوق کو پہنچانے والا اسلامی اصطلاح کے رو سے نبی کہلاتا ہے۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۱ مورخه ۶ رمئی ۱۹۰۸ ء صفحه ۵) ہیں۔ نبی وہ ہوتے ہیں جن کا تبتل الی اللہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ خدا سے کلام کرتے اور وحی پاتے الحکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ء صفحہ ۶) انسان جب سفلی زندگی کو چھوڑ دیتا ہے اور بالکل سانپ کی کینچلی کی طرح اس زندگی سے الگ ہو جاتا ہے اس وقت اس کی حالت اور ہو جاتی ہے وہ بظاہر اسی زمین پر چلتا پھرتا کھاتا پیتا ہے اور اس پر قانون قدرت کا ویسا ہی اثر ہوتا ہے جیسا دوسرے لوگوں پر لیکن باوجود اس کے بھی وہ اس دنیا سے الگ ہوتا ہے وہ ترقی کرتے - کرتے اس مقام پر جا پہنچا ہے جو نقطہ نبوت کہلاتا ہے اور جہاں وہ خدا تعالیٰ سے مکالمہ کرتا ہے ۔ یہ مکالمہ یوں شروع ہوتا ہے کہ جب وہ نفس اور اس کے تعلقات سے الگ ہو جاتا ہے تو پھر اس کا تعلق اللہ تعالیٰ ہی سے ہوتا ہے اور اسی سے وہ مکالمہ کرتا ہے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۵ صفحه ۶) نبوت کیا ہے یہ ایک جوھر خداداد ہے اگر کسب سے ہوتا تو سب نبی ہو جاتے ان کی فطرت ہی اس قسم کی نہیں ہوتی کہ وہ ان بے جا سلسلہ کلام میں مبتلا ہوں ۔ وہ نفسی کلام کرتے ہی نہیں دوسرے لوگوں میں تو یہ حال ہوتا ہے کہ وہ ان سلسلوں میں کچھ ایسے مبتلا ہوتے ہیں کہ خدا کا خانہ ہی خالی رہتا ہے لیکن نبی ان دونوں سلسلوں سے الگ ہو کر خدا میں کچھ ایسے گم ہوتے ہیں اور اس کے مخاطبہ مکالمہ میں ایسے محو ہوتے ہیں کہ ان سلسلوں کے لیے ان کے دل و دماغ میں سمائی اور گنجائش ہی نہیں ہوتی بلکہ خدا ہی کا سلسلہ کلام رہ جاتا ہے