تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 320 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 320

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء کے لیے ضرور ہے کہ وہ کسی نبی کا مثیل ہو اور خدائے تعالیٰ کے نزدیک وہی نام پاوے جو اس نبی کا نام ہے۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۰۷) یعنی ہر ایک نبی ہم نے اس لیے بھیجا ہے کہ تا خدا کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اب ظاہر ہے کہ جبکہ بہ منشاء اس آیت کے نبی واجب الاطاعت ہے پس جو شخص نبی کی اطاعت سے باہر ہو وہ کیوں کر نجات (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۳۰ ) پاسکتا ہے۔فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحِكَمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُ وافي ۶۶ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا یعنی اے پیغمبر تمہارے ہی پروردگار کی قسم ہے کہ جب تک یہ لوگ اپنے باہمی جھگڑے تم ہی سے فیصلہ نہ کرائیں اور صرف فیصلہ ہی نہیں بلکہ جو کچھ تم فیصلہ کر دو اس سے کسی طرح دل گیر بھی نہ ہوں بلکہ کمال اطاعت اور دلی رضامندی اور شرح صدر سے اس کو قبول کر لیں تب تک یہ لوگ ایمان سے بے بہرہ ہیں۔ج تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۳۲۰) وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَبِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَبِكَ رَفِيقات ہم نماز میں یہ دعا کرتے ہیں کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔اس سے یہی مطلب ہے کہ خدا سے ہم اپنے ترقی ایمان اور بنی نوع کی بھلائی کے لیے چار قسم کے نشان چار کمال کے رنگ میں چاہتے ہیں نبیوں کا کمال، صدیقوں کا کمال، شہیدوں کا کمال ، صلحاء کا کمال ، سونبی کا خاص کمال یہ ہے کہ خدا سے ایسا علم غیب پاوے جو بطور نشان کے ہو۔اور صدیق کا کمال یہ ہے کہ صدق کے خزانہ پر ایسے کامل طور پر قبضہ کرے یعنی ایسے اکمل طور پر کتاب اللہ کی سچائیاں اس کو معلوم ہو جائیں کہ وہ بوجہ خارق عادت ہونے کے نشان کے صورت پر ہوں اور اس صدیق کے صدق پر گواہی دیں۔اور شہید کا کمال یہ ہے کہ مصیبتوں اور دکھوں اور ابتلاؤں کے وقت میں ایسی قوت ایمانی اور قوت اخلاقی اور ثابت قدمی دکھلاوے کہ جو خارق عادت ہونے کی وجہ سے بطور نشان کے ہو جائے اور مرد صالح کا کمال یہ ہے کہ ایسا ہر ایک قسم کے فساد سے دور ہو جائے اور مجسم صلاح بن جائے کہ وہ کامل صلاحیت اس کی خارق عادت ہونے کی وجہ سے بطور نشان مانی جائے۔سو یہ چاروں قسم کے کمال جو ہم پانچ وقت خدا تعالیٰ سے نماز میں مانگتے ہیں یہ