تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 319
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۹ سورة النساء بی تھی ان کا صدق ہی ان کی کامیابیوں کا ذریعہ ٹھیرا۔یہ سچی بات ہے کہ صادق اپنے صدق کی تلوار ہی سے کام لیتا ہے۔آپ ( پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم ) کی شکل و صورت جس پر خدا پر بھروسہ کرنے کا نور چڑھا ہوا تھا اور جو جلالی اور جمالی رنگوں کو لیے ہوئے تھی اس میں ہی ایک کشش اور قوت تھی کہ وہ بے اختیار دلوں کو کھینچے لیتے تھے اور پھر آپ کی جماعت نے اطاعت الرسول کا وہ نمونہ دکھایا اور اس کی استقامت ایسی فوق الکرامت ثابت ہوئی کہ جو ان کو دیکھتا تھا وہ بے اختیار ہو کر ان کی طرف چلا آتا تھا۔غرض صحابہ کی سی حالت اور وحدت کی ضرورت اب بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو جو سیح موعود کے ہاتھ سے طیار ہورہی ہے اسی جماعت کے ساتھ شامل کیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طیار کی تھی اور چونکہ جماعت کی ترقی ایسے ہی لوگوں کے نمونوں سے ہوتی ہے اس لیے تم جو مسیح موعود کی جماعت کہلا کر صحابہ کی جماعت سے ملنے کی آرزور کھتے ہو اپنے اندر صحابہ کا رنگ پیدا کرو۔اطاعت ہو تو ویسی ہو۔باہم محبت اور اخوت ہو تو ویسی ہو غرض ہر رنگ میں ہر صورت میں تم وہی شکل اختیار کرو جو صحابہ کی تھی۔الحکم جلد ۵ نمبر ۵ مورخه ۱۰ فروری ۱۹۰۱ صفحه ۲،۱) فكيفَ إِذَا اَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جَاءُوكَ يَحْلِفُونَ بِاللهِ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا إِحْسَانًا وَ تَوْفِيقًا یعنی کس طرح جس وقت پہنچے ان کو مصیبت بوجہ ان اعمال کے جو ان کے ہاتھ کر چکے ہیں اب دیکھیئے ثابت ہوتا ہے کہ انسان اپنے کاموں میں اختیار بھی رکھتا ہے۔b جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۳۱) وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ ۖ وَ لَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا اَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَابًا رَّحِيمان یعنی ہر ایک رسول مطاع اور امام بنانے کے لیے بھیجا جاتا ہے اس غرض سے نہیں بھیجا جاتا کہ کسی دوسرے کا مطیع اور تابع ہو۔ہاں محدث جو مرسلین میں سے ہے امتی بھی ہوتا ہے اور ناقص طور پر نبی بھی۔امتی وہ اس وجہ سے کہ وہ بکلی تابع شریعت رسول اللہ اور مشکوۃ رسالت سے فیض پانے والا ہوتا ہے۔اور نبی اس وجہ سے کہ خدائے تعالیٰ نبیوں سا معاملہ اس سے کرتا ہے اور محدث کا وجود انبیاء اور اہم میں بطور برزخ کے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے وہ اگر چہ کامل طور پر امتی ہے مگر ایک وجہ سے نبی بھی ہوتا ہے۔محدث