تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 318
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۸ سورة النساء قوم قوم نہیں کہلا سکتی اور ان میں ملیت اور یگانگت کی روح نہیں پھونکی جاتی جب تک کہ وہ فرماں برداری کے اصول کو اختیار نہ کرے۔ اور اگر اختلاف رائے اور پھوٹ رہے تو پھر سمجھ لو کہ یہ ادبار اور تنزل کے نشانات ہیں۔ مسلمانوں کے ضعف اور تنزل کے منجملہ دیگر اسباب کے باہم اختلاف اور اندرونی تنازعات بھی ہیں پس اگر اختلاف رائے کو چھوڑ دیں اور ایک کی اطاعت کریں جس کی اطاعت کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے پھر جس کام کو چاہتے ہیں وہ ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے اس میں یہی تو ستر ہے اللہ تعالیٰ توحید کو پسند فرماتا ہے اور یہ وحدت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اطاعت نہ کی جاوے۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ بڑے بڑے اہل الرائے تھے خدا نے ان کی بناوٹ ایسی ہی رکھی تھی وہ اصول سیاست سے بھی خوب واقف تھے کیونکہ آخر جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر صحابہ کرام خلیفہ ہوئے اور ان میں سلطنت آئی تو انہوں نے جس خوبی اور انتظام کے ساتھ سلطنت کے بارگراں کو سنبھالا ہے اس سے بخوبی معلوم ہو سکتا ہے کہ ان میں اہل الرائے ہونے کی کیسی قابلیت تھی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور ان کا یہ حال تھا کہ جہاں آپ نے کچھ فرمایا اپنی تمام راؤں اور دانشوں کو اس کے سامنے حقیر سمجھا اور جو کچھ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی کو واجب العمل قرار دیا۔ ان کی اطاعت میں گمشدگی کا یہ عالم تھا کہ آپ کے وضو کے بقیہ پانی میں برکت ڈھونڈتے تھے اور آپ کے لب مبارک کو متبرک سمجھتے تھے اگر ان میں یہ اطاعت ، یہ تسلیم کا مادہ نہ ہوتا بلکہ ہر ایک اپنی ہی رائے کو مقدم سمجھتا دینے اور پھوٹ پڑ جاتی تو وہ اس قدر مراتب عالیہ کو نہ پاتے ۔ میرے نزدیک شیعہ سنیوں کے جھگڑوں کو چکاد کے لیے یہی ایک دلیل کافی ہے کہ صحابہ کرام میں باہم پھوٹ ہاں با ہم کسی قسم کی پھوٹ اور عداوت نہ تھی کیونکہ ان کی ترقیاں اور کامیابیاں اس امر پر دلالت کر رہی ہیں کہ وہ با ہم ایک تھے اور کچھ بھی کسی سے عداوت نہ تھی نا سمجھ مخالفوں نے کہا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلایا گیا مگر میں کہتا ہوں یہ صیح نہیں ہے اصل بات یہ ہے کہ دل کی نالیاں اطاعت کے پانی سے لبریز ہو کر یہ نکلی تھیں یہ اس اطاعت اور اتحاد کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے دوسرے دلوں کو تسخیر کر لیا۔ میرا تو یہ مذہب ہے کہ وہ تلوار جو ان کو اٹھانی پڑی وہ صرف اپنی حفاظت کے لیے تھی ورنہ اگر وہ تلوار نہ بھی اٹھاتے تو یقیناً وہ زبان ہی سے دنیا کو فتح کر لیتے ۔ سخن کز دل برون آید نشیند لاجرم بر دل انہوں نے ایک صداقت اور حق کو قبول کیا تھا اور پھر سچے دل سے قبول کیا تھا اس میں کوئی تکلف اور نمائش