تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 317 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 317

۳۱۷ سورة النساء تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بات شریعت کے موافق کرتی ہے وہ منکر میں داخل ہے۔جو ہماری مخالفت نہیں کرتا وہ ہم میں داخل ہے اشارۃ النص کے طور پر قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ گورنمنٹ کی اطاعت کرنی چاہیے اور اس کی باتیں مان لینی چاہیے۔(رسالہ الانذار صفحہ ۶۹) اگر حاکم ظالم ہو تو اُس کو برا نہ کہتے پھرو بلکہ اپنی حالت میں اصلاح کرو خدا اس کو بدل دے گا یا اسی کو نیک کر دے گا۔جو تکلیف آتی ہے وہ اپنی ہی بدعملیوں کے سبب آتی ہے ورنہ مومن کے ساتھ خدا کا ستارہ ہوتا ہے۔مومن کے لیے خدا تعالیٰ آپ سامان مہیا کر دیتا ہے۔میری نصیحت یہی ہے کہ ہر طرح سے تم نیکی کا نمونہ بنو خدا کے حقوق بھی تلف نہ کرو اور بندوں کے حقوق بھی تلف نہ کرو۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۹ مورخه ۲۴ مئی ۱۹۰۱ صفحه ۹) اے مسلمانو ! اگر کسی بات میں تم میں باہم نزاع واقعہ ہو تو اس امر کو فیصلہ کے لیے اللہ اور رسول کے حوالہ کرو اگر تم اللہ اور آخری دن پر ایمان لاتے ہو تو یہی کرو کہ یہی بہتر اور احسن تاویل ہے۔کرو۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۹۶) ا اَطِيْعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ یعنی اللہ اور رسول اور اپنے بادشاہوں کی تابعداری شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۲) اولی الامر سے مراد جسمانی طور پر بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے۔اور جسمانی طور پر جوشخص ہمارے مقاصد کا مخالف نہ ہو اور اس سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے۔وہ ہم میں سے ہے۔(ضرورت الامام، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۹۳) فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ یعنی اگر تم کسی بات میں تنازع کرو تو امر کا فیصلہ اللہ اور رسول کی طرف رڈ کرو اور صرف اللہ اور رسول کو حکم بناؤ نہ کسی اور کو۔الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۸۴) یعنی اللہ اور اس کے رسول اور ملوک کی اطاعت اختیار کرو۔اطاعت ایک ایسی چیز ہے کہ اگر سچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں ایک نور اور روح میں ایک لذت اور روشنی آتی ہے مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں ہے جس قدر اطاعت کی ضرورت ہے مگر ہاں یہ شرط ہے کہ سچی اطاعت ہو اور یہی ایک مشکل امر ہے اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کر دینا ضروری ہوتا ہے بدوں اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی اور ہوائے نفس ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے موحدوں کے قلب میں بھی بت بن سکتی ہے۔صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کیسا فضل تھا اور وہ کس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں فنا شدہ قوم تھی۔یہ سچی بات ہے کہ کوئی