تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 316 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 316

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣١٦ سورة النساء اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِايْتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمُ نَارًا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم بدلتهُم جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا بہشت میں بھی ہر روز ایک مجدد ہوتا رہے گا۔اسی طرح دوزخیوں پر بھی لکھا ہے۔بدلتهُمْ جُلُودًا غيرها مگر خدا کا تجد دبے پایاں ہے جو کبھی ختم نہیں ہو گا۔خدا کے کاموں میں انتہا نہیں فرماتا ہے ولدينا مزید۔یعنی زیادتی ہوتی رہے گی۔البدر جلد نمبر ۱۲ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۹۱) اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْآمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَ إِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا امانت سے مراد انسان کامل کے وہ تمام قومی اور عقل اور علم اور دل اور جان اور حواس اور خوف اور محبت اور عزت اور وجاہت اور جمیع نعماء روحانی و جسمانی ہیں جو خدا تعالیٰ انسان کامل کو عطا کرتا ہے اور پھر انسان کامل بر طبق آيت إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْآمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا اس ساری امانت کو جناب الہی کو واپس دے دیتا ہے یعنی اس میں فانی ہو کر اس کی راہ میں وقف کر دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اور یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور اتم طور پر ہمارے سید ہمارے مولیٰ ہمارے ہادی نبی اُمّتی صادق مصدوق محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۶۱، ۱۶۲) امانتوں کو ان کے حق داروں کو واپس دے دیا کرو خدا خیانت کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۷) ہم اسی وقت بچے بندے ٹھہر سکتے ہیں کہ جو خداوند منعم نے ہمیں دیا ہم اس کو واپس دیں یا واپس دینے کے لیے تیار ہو جائیں ہماری جان اس کی امانت ہے اور وہ فرماتا ہے۔تُؤْذُوا الْآمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا۔مکتوبات احمد جلد اول صفحہ ۸۰ حاشیہ۔مکتوب بنام ڈاکٹر جگن ناتھ صاحب جموں ) يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَأْوِيلاًان قرآن میں حکم ہے اَطِیعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُم اب اولی الامر کی اطاعت کا صاف حکم ہے اور اگر کوئی کہے کہ گورنمنٹ منکم میں داخل نہیں تو یہ اس کی صریح غلطی ہے۔گورنمنٹ جو