تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 305 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 305

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۵ سورة النساء کےسوا جو ذکر ہوچکیں (آیت ۲۳ تا ۲۵) باقی سب عورتیں تم پر حلال ہیں مگر اس شرط سے کہ وہ تعلق صرف شہوت رانی کا ناجائز تعلق نہ ہو بلکہ نیک اور پاک مقاصد کی بنا پر نکاح ہو۔یہ ہیں وہ عورتیں جو خدا کے قانون نے مسلمانوں پر حرام کر دی ہیں اور یہ محض خدا کا حق ہے کہ جن چیزوں کو چاہے حلال کرے اور جن کو چاہے حرام کرے اور وہی اپنے مصالح کو خوب جانتا ہے اب آریوں کا خدائی قانون میں خواہ نخواہ بغیر کسی حجت اور روشن دلیل کے دخل دینا صرف شوخی اور کمینگی ہے اور ہمیں تو تعجب آتا ہے کہ جولوگ حیوانات کا پیشاب اور گوبر بھی کھا جاتے ہیں اور حرام حلال کا یہ حال ہے کہ اپنی بیوی کو بنام نہاد نیوگ دوسروں سے ہم بستر کراتے ہیں وہ اسلام پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قریبی رشتہ داروں سے کیوں نکاح کیا جاتا ہے؟ اس کا یہی جواب ہے کہ وہ خدا کے نزدیک ایسے قریبی نہیں ہیں جو تمہارے خیال خام میں قریبی معلوم ہوتے ہیں جن کو خدا نے قریبی ٹھیرایا ہے ان کا ذکر اپنی کتاب میں کر دیا ہے اور وہ نکاح حرام کیے گئے ہیں جیسا کہ ابھی ہم ذکر کر آئے ہیں مگر اس کا کیا جواب ہے کہ وید کے پرمیشر نے ایک بڑا اندھیر مارا ہے ( جس کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آریہ لوگ بسا اوقات ماؤں اور بہنوں سے بھی شادی کر لیتے ہیں ) اور وہ تناسخ یعنی آواگون کا دھوکہ دینے والا طریق ہے کیونکہ جس حالت میں دوبارہ آنے والی روح کے ساتھ پر میشر کی طرف سے کوئی ایسی فہرست پیٹ میں سے ساتھ نہیں نکلتی جس سے معلوم ہو کہ فلاں عورت سے پیدا ہونے والی در حقیقت فلاں شخص کی ماں ہے یا دادی ہے یا نانی ہے یا بیٹی ہے یا بہن ہے تو اس میں کیا شک ہے کہ بسا اوقات ایک آریہ شادی کرنے والا اپنی ماں سے نکاح کر لیتا ہوگا ؟ یا بیٹی سے یا بہن سے یا دادی سے اگر کہو کہ یہ تو پر میشر کا قصور ہے ہمارا قصور نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ پھر تم ایسے پر میشر پر کیوں ایمان لاتے ہو؟ جو تمہیں دیدہ دانستہ ایسی ایسی ناپاکی میں ڈالتا ہے اور اگر وہ ان رشتوں کو تمہارے لیے حلال سمجھتا ہے تو پھر تم کیوں اپنے پر میشر کی نافرمانی کرتے ہو اور کیوں شاکت مت کی طرح جو ہندوؤں کی ایک شاخ ہے ماؤں بہنوں کو اپنے پر حلال نہیں کر لیتے یہ کمال نا سمجھی اور کمزوری ہے کہ جن چیزوں کو پرمیشر تمہارے لیے حلال ٹھیراتا ہے تم ان چیزوں کو حرام ٹھیراتے ہو۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۵۰ تا۲۵۲) محصنات تو قرآن شریف میں خود نکاح والی عورتوں پر بولا گیا ہے۔وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ النِّسَاءِ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۶ مورخه ۱۰ راکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۰)