تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 303

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۳ سورة النساء نکاح کرنے میں مضائقہ نہیں اور ایسا ہی تمہارے بیٹوں کی بیویاں تم پر حرام ہیں مگر وہ بیٹے جو تمہارے صلبی بیٹے ہیں متبنی نہیں۔ ہیں اور یہ حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح کرو اور دونوں تمہارے نکاح میں ہے میں ہوں مگر جو پہلے اس سے گزر گیا اس پر کچھ مؤاخذہ نہیں بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا مہربان ہے۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۵۰) خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں پہلے ہی یہ حکم فرمادیا تھا کہ تم پر صرف ان بیٹوں کی عورتیں حرام ہیں جو تمہارے صلبی بیٹے ہیں جیسا کہ یہ آیت ہے وَ حَلَابِلُ ابْنَا بِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُم یعنی تم پر فقط ان بیٹوں کی جو رواں حرام ہیں جو تمہاری پشت اور تمہارے نطفہ سے ہوں پھر جبکہ پہلے سے یہی قانون تعلیم قرآنی میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہو چکا ہے اور یہ زینب کا قصہ ایک مدت بعد اس کے ظہور میں آیا تو اب ہر یک سمجھ سکتا ہے کہ قرآن نے یہ فیصلہ اسی قانون کے مطابق کیا جو اس سے پہلے منضبط ہو چکا تھا۔ قرآن کھولو اور دیکھو کہ زینب کا قصہ اخیری حصہ قرآن میں ہے مگر یہ قانون کے متمنی کی جو رو حرام نہیں ہو سکتی یہ پہلے حصہ میں ہی موجود ہے اور اس وقت کا یہ قانون ہے کہ جب زینب کا زید سے ابھی نکاح بھی نہیں ہوا تھا۔ تم آپ ہی قرآن شریف کو کھول کر ان دونوں مقاموں کو دیکھ لو اور ذرہ شرم کو کام میں لاؤ۔ (آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۵۸) وَ الْمُحْصَنْتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَبَ اللهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسْفِحِيْنَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَأْتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا احصان ۔۔۔۔۔ سے مراد خاص وہ پاک دامنی ہے جو مرد اور عورت کی قوت تناسل سے علاقہ رکھتی ہے اور محصن یا محصنہ اس مرد یا اس عورت کو کہا جائے گا کہ جو حرامکاری یا اس کے مقدمات سے مجتنب رہ کر اس نا پاک بدکاری سے اپنے تئیں روکیں ۔ جس کا نتیجہ دونوں کے لیے اس عالم میں ذلت اور لعنت اور دوسرے جہان میں عذاب آخرت اور متعلقین کے لیے علاوہ بے آبروئی نقصان شدید ہے مثلاً جو شخص کسی کی بیوی سے نا جائز حرکت کا مرتکب ہو یا مثلاً زنا تو نہیں مگر اس کے مقدمات مرد اور عورت دونوں سے ظہور میں آویں تو کچھ شک نہیں کہ اس غیرت مند مظلوم کی ایسی بیوی کو جو زنا کرانے پر راضی ہو گئی تھی یا زنا بھی واقع ہو چکا تھا طلاق دینی پڑے گی اور بچوں پر بھی اگر اس عورت کے پیٹ سے ہوں گے بڑا تفرقہ پڑے گا اور مالک خانہ یہ تمام نقصان اس بدذات کی وجہ سے اٹھائے گا۔