تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 300 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 300

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۰ سورة النساء نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کا تماشہ دکھایا اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب آئے تو وہ حبشی ان کو دیکھ کر بھاگ گئے۔ الحکم جلدے نمبر ۱۳ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۲) شریعت میں حکم ہے عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ نمازوں میں عورتوں کی اصلاح اور تقویٰ کے لیے دعا کرنی چاہیے قصاب کی طرح برتاؤ نہ کرے کیونکہ جب تک خدا نہ چاہے کچھ نہیں ہو سکتا۔ مجھ پر بھی بعض لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ عورتوں کو پھراتے ہیں اصل میں بات یہ ہے کہ میرے گھر میں ایک ایسی بیماری ہے کہ جس کا علاج پھر انا ہے جب ان کی طبیعت زیادہ پریشان ہوتی ہے تو بدیں خیال کہ گناہ نہ ہو کہا کرتا ہوں کہ چلو پھر الاؤں اور بھی عورتیں ہمراہ ہوتی ہیں ۔ البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۵۷) خدا تعالیٰ اس سے تو منع نہیں کرتا کہ انسان دنیا میں کام نہ کرے مگر یہ بات ہے کہ دنیا کے لیے نہ کرے بلکہ دین کے لیے کرے تو وہ موجب برکات ہو جاتا ہے مثلاً خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ بیویوں سے نیک سلوک کرو عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ لیکن اگر انسان محض اپنی ذاتی اور نفسانی اغراض کی بنا پر وہ سلوک کرتا ہے تو فضول ہے اور وہی سلوک اگر اس حکم الہی کے واسطے ہے تو موجب برکات ۔۔۔۔۔ مومن کی غرض ہر آسائش ہر قول و فعل حرکت و سکون سے گو بظا ہر نکتہ چینی ہی کا موقع ہو مگر در اصل عبادت ہوتی ہے۔ بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں کہ جاہل اعتراض سمجھتا ہے مگر خدا کے نزدیک عبادت ہوتی ہے لیکن اگر اس میں اخلاص کی نیت نہ ہوتا ہے۔ ہو تو نماز بھی لعنت کا طوق ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ امر کی بجا آوری سے ثواب الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۴ء صفحه ۹) بیوی اسیر کی طرح ہے اگر یہ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ پر عمل نہ کرے تو وہ ایسا قیدی ہے جس کی کوئی خبر لینے والا نہیں ہے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۶ ) ( حضرت سید خصیلت علی شاہ صاحب کے نام ایک مکتوب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحریر فرمایا ) باعث تکلیف دہی ہے کہ میں نے بعض آپ کے سچے دوستوں کی زبانی جو در حقیقت آپ سے تعلق اخلاص اور محبت اور حسن ظن رکھتے ہیں سنا ہے کہ امور معاشرت میں جو بیویوں اور اہل خانہ سے کرنی چاہیے کسی قدر آپ شدت رکھتے ہیں یعنی غیظ و غضب کے استعمال میں بعض اوقات اعتدال کا اندازہ ملحوظ نہیں رہتا۔ میں نے اس شکایت کو تعجب کی نظر سے نہیں دیکھا کیونکہ اول تو بیان کرنے والے آپ کی تمام صفات