تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 296

۲۹۶ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء ہے تو اس حالت میں ان کے ترکہ میں سے تمہارا حصہ چوتھائی ہے مگر وصیت یا قرض کے ادا کرنے کے بعد۔اور اگر تم مرجاؤ اور تمہاری کچھ اولاد نہ تو تمہاری بیبیوں کا حصہ تمہارے مال میں سے چوتھائی ہے اور اگر تمہاری اولاد ہو تو ان کا حصہ تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ہے مگر اس امر کے بعد کہ پہلے ان کی وصیت کی تعمیل کی جائے یا جو کچھ ان کے سر پر قرضہ ہے وہ ادا کیا جائے اور اگر کسی مرد یا عورت کی میراث ہو اور وہ ایسا ہو کہ اس کا نہ باپ ہو نہ بیٹا اور اس کے بھائی یا بہن ہو تو ان بھائی یا بہنوں میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے اور اگر وہ ایک سے زیادہ ہوں تو اس صورت میں ایک تہائی میں سب شریک ہوں گے مگر ضروری ہوگا کہ پہلے وصیت کی تعمیل کی جائے یا اگر مرنے والے کے ذمہ قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے لیکن اس وصیت اور اس قرض میں ایک شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ اس وصیت یا اس قرضہ کے ذریعہ سے مرنے والے نے کسی کو نقصان پہنچانا نہ چاہا ہو۔اس طرح پر کہ ایک ثلث سے زیادہ کی وصیت کر دی ہو یا ایک فرضی قرضہ ظاہر کیا ہو۔یہ خدا کا حکم ہے وہ خدا جس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں اور وہ علیم ہے اس لیے وہ باوجود علم کے نافرمان کو جلدی سزا نہیں دیتا۔یعنی وہ سزا دینے میں دھیما ہے پس اگر کسی ظلم اور خیانت کے وقت کوئی شخص اپنے کیفر کردار کونہ پہنچے تو اس کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ خدا کو اس کی مجرمانہ حرکت کی خبر نہیں بلکہ یہ سمجھنا چاہیے کہ باعث خدا کے حکم کے یہ تاخیر واقع ہوئی ہے اور آخر شریر آدمی کو وہ سزا دیتا ہے جس کے وہ لائق ہوتا ہے۔ہاں مشو مغرور بر حلم خدا دیر گیرد سخت گیرد مر ترا اب ان تمام آیات ( ۸ تا ۱۲) سے صاف ظاہر ہے کہ کیسے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں والدین کے حق کو تاکید کے ساتھ ظاہر فرمایا ہے اور ایسا ہی اولاد کے حقوق بلکہ تمام اقارب کے حقوق ذکر فرمائے ہیں اور مساکین اور یتیموں کو بھی فراموش نہیں کیا بلکہ ان حیوانات کا حق بھی انسانی مال میں ٹھہرایا ہے جو کسی انسان کے قبضہ میں ہوں۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۱۲ تا ۲۱۴) ( اس سوال کے جواب میں کہ بیٹوں کی موجودگی میں یتیم پوتا محروم الارث کیوں ہے ) فرمایا کہ دادے کا اختیار ہے کہ وصیت کے وقت اپنے پوتے کو کچھ دے دے بلکہ جو چاہے دے دے اور باپ کے بعد بیٹے وارث قرار دیئے گئے کہ تا ترتیب بھی قائم رہے اور اگر اس طرح نہ کہا جاتا تو پھر ترتیب ہرگز قائم نہ رہتی کیونکہ پھر لازم آتا ہے کہ پوتے کا بیٹا بھی وارث ہو اور پھر آگے اس کی اولاد ہوتو وہ وارث ہو اس صورت میں دادے کا کیا گناہ ہے۔یہ خدا کا قانون ہے اور اس سے حرج نہیں ہوا کرتا ورنہ اس طرح تو ہم سب آدم کی اولاد ہیں اور جس قدر سلاطین ہیں وہ بھی آدم کی اولاد ہیں تو ہم کو چاہیے کہ سب کی سلطنتوں سے حصہ بٹانے