تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 14
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام دو وجہ ہیں ؛ ۱۴ سورة ال عمران اول یہ کہ پہلے نبی اپنے زمانہ کے جمیع بنی آدم کیلئے مبعوث نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ صرف اپنی ایک خاص قوم کیلئے بھیجے جاتے تھے جو خاص استعداد میں محدود اور خاص طور کے عادات اور عقائد اور اخلاق اور روش میں قابل اصلاح ہوتے تھے پس اس وجہ سے وہ کتابیں، قانون مختص القوم کی طرح ہو کر صرف اسی حد تک اپنے ساتھ ہدایت لاتی تھیں جو اس خاص قوم کے مناسب حال اور ان کے پیمانہ استعداد کے موافق ہوتی تھی۔دوسری وجہ یہ کہ ان انبیاء علیہم السلام کو ایسی شریعت ملتی تھی جو ایک خاص زمانہ تک محدود ہوتی تھی اور خدا تعالیٰ نے ان کتابوں میں یہ ارادہ نہیں کیا تھا کہ دنیا کے اخیر تک وہ ہدایتیں جاری رہیں اس لئے وہ کتابیں، قانون مختص الزمان کی طرح ہو کر صرف اسی زمانہ کی حد تک ہدایت لاتی تھیں جو ان کتابوں کی پابندی کا زمانہ حکمت الہی نے اندازہ کر رکھا تھا۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۲۶ تا ۱۲۸) قرآن کریم نے حقیقت اسلامیہ کی تحصیل کے لئے بہت سے وسائل بیان فرمائے ہیں مگر در حقیقت ان سب کا مال دو قسم پر ہی جا ٹھہرتا ہے ؛ اول یہ کہ خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی مالکیت تامہ اور اس کی قدرت تامہ اور اس کی حکومت تامہ اور اس کے علم تام اور اس کے حساب تام اور نیز اس کے واحد لا شریک اور حی قیوم اور حاضر ناظر ذ والاقتدار اور ازلی ابدی ہونے میں اور اس کی تمام قوتوں اور طاقتوں اور جمیع جلال و کمال کے ساتھ یگانہ ہونے میں پورا پورا یقین آجائے یاں تک کہ ہر ایک ذرہ اپنے وجود اور اس تمام عالم کے وجود کا اس کے تصرف اور حکم میں دکھائی دے اور هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ (الانعام :۱۹) کی تصویر سامنے نظر آ جاوے اور نقش راسخ بِيَدِهِ مَلَكُوتُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ کا جلی قلم کے ساتھ دل میں لکھا جائے یاں تک کہ اس کی عظمت اور ہیبت اور کبریائی تمام نفسانی جذبات کو اپنی قہری شعاعوں سے مضمحل اور خیرہ کر کے ان کی جگہ لے لے اور ایک دائمی رُعب اپنا دل پر جما دیوے اور اپنے قہری حملہ سے نفسانی سلطنت کے تخت کو خاک مذلت میں پھینک دیوے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیوے اور اپنے خوفناک کرشموں سے غفلت کی دیواروں کو گرا دے اور تکبر کے میناروں کو توڑ دے اور ظلمت بشری کی حکومتیں وجود انسانی کی دارالسلطنت سے بکلی اٹھا دیوے اور جو جذبات نفس امارہ کی طبیعت انسانی پر حکومت کرتے تھے اور باعزت سمجھے گئے تھے ان کو ذلیل اور خوار اور بیچ اور بے مقدار کر کے دکھلا دیوے۔دوم یہ کہ اللہ جل شانہ