تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 292
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۲ سورة النساء ہو گئے لہذا وہ اب فتح یاب بادشاہ کی لونڈی ہے اور ایسی عورت کو حرم میں داخل کرنے کے لیے اس کی رضا مندی کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے جنگجو اقارب پر فتح یاب ہو کر اس کو اپنے قبضہ میں لانا یہی اس کی رضا مندی ہے یہی حکم تو ریت میں بھی موجود ہے ہاں قرآن شریف میں فَل رَقَبَةٍ (البلد : ۱۴) یعنی لونڈی غلام کو آزاد کرنا بڑے ثواب کا کام بیان فرمایا ہے اور عام مسلمانوں کو رغبت دی ہے کہ اگر وہ ایسی لونڈیوں اور غلاموں کو آزاد کر دیں تو خدا کے نزدیک بڑا اجر حاصل کریں گے اگر چہ مسلمان بادشاہ ایسے خبیث اور چنڈال لوگوں پر فتح یاب ہو کر غلام اور لونڈی بنانے کا حق رکھتا ہے مگر پھر بھی بدی کے مقابل پر نیکی کرنا خدا نے پسند فرمایا ہے یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ ہمارے زمانہ میں اسلام کے مقابل پر جو کافر کہلاتے ہیں انہوں نے یہ تعدی اور زیادتی کا طریق چھوڑ دیا ہے اس لیے اب مسلمانوں کے لیے بھی روا نہیں کہ ان کے قیدیوں کو لونڈی غلام بناویں کیونکہ خدا قرآن شریف میں فرماتا ہے جو تم جنگجو فرقہ کے مقابل پر صرف اسی قدر زیادتی کرو جس میں پہلے انہوں نے سبقت کی ہو پس جبکہ اب وہ زمانہ نہیں ہے اور اب کا فرلوگ جنگ کی حالت میں مسلمانوں کے ساتھ ایسی سختی اور زیادتی نہیں کرتے کہ ان کو اور ان کے مردوں اور عورتوں کو لونڈیاں اور غلام بناویں بلکہ وہ شاہی قیدی سمجھے جاتے ہیں اس لیے اب اس زمانہ میں مسلمانوں کو بھی ایسا کرنا نا جائز اور چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۵۳ حاشیه ) حرام ہے۔ وَأتُوا النِّسَاءَ صَدُقَتِهِنَّ نِحْلَةً فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ نَفْسًا ♡ فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَرِيان اور اپنی عورتوں کو مہر دو۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۷) وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللهُ لَكُمْ قِيمًا وَ ارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا وَابْتَلُوا الْيَثْنى حَتَّى إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ أَنَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَ بِدَارًا أَنْ يَكْبَرُوا وَ مَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلُ بِالْمَعْرُوفِ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمُ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ وَكَفَى بِاللَّهِ حَسِيبًا یعنی اگر کوئی ایسا تم میں مال دار ہو جو صیح العقل نہ ہو مثلاً یتیم یا نابالغ ہو اور اندیشہ ہو کہ وہ اپنی حماقت سے