تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 291 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 291

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۱ سورة النساء کے لیے وہ لوگ پسند کرتے تھے اس کا بدلہ لینے کے لیے حکم دے دیا۔اسی بنا پر اسلام میں یہ رسم جاری ہوئی کہ کافروں کی عورتیں لونڈی کی طرح رکھی جائیں اور عورتوں کی طرح استعمال کی جائیں یہ تو انصاف اور طریق عدل سے بعید تھا کہ کا فر تو جب کسی مسلمان عورت کو اپنے قبضہ میں لاویں تو اس کو لونڈی بنا دیں اور عورتوں کی طرح ان کو استعمال کریں اور جب مسلمان ان کی عورتوں اور ان کی لڑکیوں کو اپنے قبضہ میں کریں تو ماں بہن کر کے رکھیں۔خدا بیشک حلیم ہے مگر وہ سب سے زیادہ غیرت مند ہے اس کی غیرت ہی تھی جو نوح کے طوفان کا باعث ہوئی، اسی کی غیرت نے ہی انجام کار فرعون اور اس کے تمام لشکر کو دریا میں غرق کر دیا، اسی کی غیرت نے لوط کی قوم پر زمین کا تختہ الٹا دیا اور اسی کی غیرت اب جابجا ہیبت ناک زلزلے دکھلا رہی ہے اور لاکھوں انسانوں کو طاعون سے ہلاک کر رہی ہے اور اسی کی غیرت نے لیکھرام کو جو بد زبانی سے کسی طرح باز نہیں آتا تھا اسی کی زبان کی چھری سے آخر لوہے کی چھری غیب سے پیدا کر دی اور جواناں مرگ مارا اور بڑے دکھ سے اس کو اس کی قوم میں سے اٹھایا اور کوئی اس کو بچا نہ سکا اور خدا نے اپنی پیشگوئی اس میں پوری کر دی پس اسی طرح جب عرب کے خبیث فطرت ایذاء اور دکھ دینے سے باز نہ آئے اور نہایت بے حیائی اور بے غیرتی سے عورتوں پر بھی فاسقانہ حملے کرنے لگے تو خدا نے ان کی تنبیہ کے لیے یہ قانون جاری کر دیا کہ ان کی عورتیں بھی اگر لڑائیوں میں پکڑی جائیں تو ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا جائے پس یہ تو بموجب مثل مشہور که عوض معاوضه گله ندارد کوئی محل اعتراض نہیں جیسی ہندی میں بھی یہ شکل مشہور ہے کہ جیسی کرنی ویسی بھرنی مگر یہ دوسری بات در حقیقت نہایت بے رحمی ، دیوئی اور بے حیائی کا کام ہے کہ انسان اپنی عورت سے محض لڑکا پیدا ہونے کی خواہش سے زنا کرا دے یہ ایک ایسی ناپاکی کی راہ اور گندی نظیر ہے کہ تمام دنیا میں اگر تلاش کرو تو ہرگز ہرگز اس کی نظیر نہیں ملے گی۔پھر ماسوا اس کے اسلام اس بات کا حامی نہیں کہ کافروں کے قیدی غلام اور لونڈیاں بنائی جائیں بلکہ غلام آزاد کرنے کے بارہ میں اس قدر قرآن شریف میں تاکید ہے کہ جس سے بڑھ کر متصور نہیں۔غرض ابتدا غلام لونڈی بنانے کی کافروں سے شروع ہوئی اور اسلام میں بطور سزا کے یہ حکم جاری ہوا اور اس میں بھی آزاد کرنے کی ترغیب دی گئی۔(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۵۲ تا ۲۵۵) یادر ہے کہ نکاح کی اصل حقیقت یہ ہے کہ عورت اور اس کے ولی کی اور نیز مرد کی بھی رضا مندی لی جاتی ہے لیکن جس حالت میں ایک عورت اپنی آزادی کے حقوق کھو چکی ہے اور وہ آزاد نہیں ہے بلکہ وہ ان ظالم طبع جنگ جو لوگوں میں سے ہے جنہوں نے مسلمانوں کے مردوں اور عورتوں پر بے جا ظلم کیے ہیں تو ایسی عورت جب گرفتار ہو کر اپنے اقارب کے جرائم کی پاداش میں لونڈی بنائی گئی تو اس کی آزادی کے حقوق سب تلف