تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 283
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۳ سورة النساء کثرت ازدواج کے اعتراض میں ہماری طرف سے وہی معمولی جواب ہوگا کہ اسلام سے پہلے اکثر قوموں میں کثرت ازدواج کی سینکڑوں اور ہزاروں تک نوبت پہنچ گئی تھی اور اسلام نے تعدّ دازدواج کو کم کیا ہے نہ زیادہ۔بلکہ یہ قرآن میں ہی ایک فضیلت خاص ہے کہ اس نے ازدواج کی بے حدی اور بے قیدی کورد کر دیا ہے اور کیا وہ اسرائیلی قوم کے مقدس نبی جنہوں نے سوسو بیوی کی بلکہ بعض نے سات سو تک نوبت پہنچائی وہ اخیر عمر تک حرامکاری میں مبتلا رہے؟ اور کیا ان کی اولاد جن میں سے بعض راست باز بلکہ نبی بھی تھے ناجائز طریق کی اولاد سمجھی جاتی ہے؟ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحه ۳۳۵) واحدہ لاشریک ہونا خدا کی تعریف ہے۔مگر عورتیں بھی شریک ہرگز پسند نہیں کرتی ہیں ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میرے ہمسایہ میں ایک شخص اپنی بیوی سے بہت کچھ سختی کیا کرتا تھا۔اور ایک مرتبہ اس نے دوسری بیوی کرنے کا ارادہ کیا۔تب اس بیوی کو نہایت رنج پہنچا اور اس نے اپنے شوہر کو کہا کہ میں نے تیرے سارے دکھ ہے۔مگر یہ دکھ مجھ سے نہیں دیکھا جاتا کہ تو میرا خاوند ہو کر اب دوسری کو میرے ساتھ شریک کرے۔وہ فرماتے ہیں کہ ان کے اس کلمہ نے میرے دل پر نہایت دردناک اثر پہنچایا میں نے چاہا کہ اس کلمہ کے مشابہ قرآن شریف میں پاؤں۔سو یہ آیت مجھے ملی۔وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ (النساء :۱۱۷) یہ مسئلہ بظاہر بڑا نازک ہے۔دیکھا جاتا ہے کہ جس طرح مرد کی غیرت نہیں چاہتی کہ اس کی عورت اس میں اور اس کے غیر میں شریک ہو۔اسی طرح عورت کی غیرت بھی نہیں چاہتی کہ اس کا مرد اس میں اور اس کے غیر میں بٹ جاوے مگر میں خوب جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی تعلیم میں نقص نہیں ہے اور نہ وہ خواص فطرت کے برخلاف ہے اس میں پوری تحقیق یہی ہے کہ مرد کی غیرت ایک حقیقی و کامل غیرت ہے جس کا انفکاک واقعی لا علاج ہے مگر عورت کی غیرت کامل نہیں بالکل مشتبہ اور زوال پذیر ہے اس میں وہ نکتہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا تھا نہایت معرفت بخش نکتہ ہے کیونکہ جب حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی درخواست نکاح پر عذر کیا کہ آپ کی بہت بیویاں ہیں اور آئندہ بھی خیال ہے اور میں ایک عورت غیرت مند ہوں جو دوسری بیوی کو دیکھ نہیں سکتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تیرے لیے دعا کروں گا کہ تا خدا تعالیٰ تیری یہ غیرت دور کر دے اور صبر بخشے۔۔۔۔۔نئی بیوی کی دل جوئی نہایت ضروری ہے کہ وہ مہمان کی طرح ہے مناسب ہے کہ آپ کے اخلاق اس سے اول درجہ کے ہوں اور ان سے بے تکلف مخالطت اور محبت کریں اور اللہ جل شانہ سے چاہیں کہ اپنے فضل وکرم سے