تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 278
۲۷۸ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء لڑکا پیدا نہیں ہوسکتا لیکن اگر سو عورت کا ایک خاوند ہو تو سولڑ کا پیدا ہونا کچھ بعید نہیں ہے پس جس طریق سے انسان کی نسل پھیلتی ہے اور خدا کے بندوں کی تعداد بڑھتی ہے اس طریق کو کیوں برا کہا جاوے؟ اگر کہو کہ یہ اعتدال کے برخلاف ہے تو یہ خیال باطل ہے کیونکہ جب کہ خدا نے ایک کو مرد بنایا اور زیادہ بچہ پیدا کرانے کا اس میں مادہ رکھا اور عورت کی نسبت اس کو بہت زبر دست قوتیں دیں تو اس صورت میں اعتدال کو تو خدا نے اپنے ہاتھ سے توڑ دیا جن کو خدا نے برابر نہیں کیا وہ کیوں کر برابر ہو جائیں ان کو برابر سمجھنا صریح حماقت ہے۔ماسوا اس کے ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ تعدد ازدواج میں کسی عورت پر ظلم نہیں مثلاً اگر کسی شخص کی پہلی بیوی موجود ہے تو اب دوسری عورت جو اس سے شادی کرنا چاہتی ہے وہ کیوں ایسے شخص سے شادی کرتی ہے جو پہلے بھی ایک بیوی رکھتا ہے ظاہر ہے کہ وہ تو تبھی شادی کرے گی کہ جب تعد دازدواج پر راضی ہو جائے گی پھر جب میاں بیوں راضی ہو گئے تو پھر دوسرے کو اعتراض کا حق نہیں پہنچتا۔جب حقدار نے اپنا حق چھوڑ دیا تو پھر دوسرے کا اعتراض محض جھک مارنا ہے اور اگر پہلی بیوی ہے تو وہ خوب جانتی ہے کہ اسلام میں دوسری بیوی کر سکتے ہیں تو وہ کیوں نکاح کے وقت میں یہ شرط نہیں کر لیتی کہ اس کا خاوند دوسری بیوی نہ کرے اس صورت میں وہ بھی اپنی خاموشی سے اپنا حق چھوڑتی ہے اور یہ بھی یادر ہے کہ کثرت ازواج خدا کے تعلق کی کچھ حارج نہیں اگر کسی کی دس ہزار بیوی بھی ہو تو اگر اس کا خدا سے پاک اور سلام تعلق ہے تو دس ہزار بیوی سے اس کا کچھ حرج نہیں بلکہ اس سے اس کا کمال ثابت ہوتا ہے کہ ان تمام تعلقات کے ساتھ وہ ایسا ہے کہ گو یا اس کو کسی کے ساتھ بھی تعلق نہیں اگر ایک گھوڑا بوجھ کی حالت میں کچھ چل نہیں سکتا مگر بغیر سواری اور بوجھ خوب چال نکالتا ہے تو وہ گھوڑ ا کس کام کا ہے؟ اسی طرح بہادر وہی لوگ ہیں جو تعلقات کے ساتھ ایسے ہیں کہ گویا بے تعلق ہیں۔پاک آدمیوں کی شہوات کو ناپاکوں کی شہوات پر قیاس نہیں کرنا چاہیے کیونکہ نا پاک لوگ شہوات کے اسیر ہوتے ہیں مگر پاکوں میں خدا اپنی حکمت اور مصلحت سے آپ شہوات پیدا کر دیتا ہے اور صرف صورت کا اشتراک ہے جیسا کہ مثلاً قیدی بھی جیل خانہ میں رہتے ہیں اور داروغہ جیل بھی۔مگر دونوں کی حالت میں فرق ہے۔دراصل ایک انسان کا خدا سے کامل تعلق تبھی ثابت ہوتا ہے کہ بظاہر بہت سے تعلقات میں وہ گرفتار ہو۔بیویاں ہوں اولاد ہو تجارت ہو زراعت ہو اور کئی قسم کے اس پر بوجھ پڑے ہوئے ہوں اور پھر وہ ایسا ہو کہ گویا خدا کے سوا کسی کے ساتھ بھی اس کا تعلق نہیں یہی کامل انسانوں کے علامات ہیں اگر ایک شخص ایک بن میں بیٹھا ہے نہ اس کی کوئی جو رو ہے نہ اولاد ہے نہ دوست ہیں اور نہ کوئی بوجھ کسی قسم کے