تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 276
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء ہے تو وہ طلاق لے کر اس جھگڑے سے خلاصی پاسکتی ہے اور اگر خاوند طلاق نہ دے تو بذریعہ حاکم وقت وہ ضلع کراسکتی ہے اور اگر دوسری بیوی اپنا کچھ حرج بجھتی ہے تو وہ اپنے نفع نقصان کو خود بجھتی ہے پس یہ اعتراض کرنا کہ اس طور سے اعتدال ہاتھ سے جاتا ہے خواہ نخواہ کا دخل ہے اور باایں ہمہ خدا تعالیٰ نے مردوں کو وصیت فرمائی ہے کہ ان کی چند بیویاں ہوں تو ان میں اعتدال رکھیں ورنہ ایک ہی بیوی پر قناعت کریں۔اور یہ کہنا کہ تعدد ازواج شہوت پرستی سے ہوتا ہے یہ بھی سراسر جاہلانہ اور متعصبانہ خیال ہے ہم نے تو اپنی آنکھوں کے تجربہ سے دیکھا ہے کہ جن لوگوں پر شہوت پرستی غالب ہے اگر وہ تعدد ازواج کی مبارک رسم کے پابند ہو جا ئیں تب تو وہ فسق و فجور اور زنا کاری اور بدکاری سے رُک جاتے ہیں اور یہ طریق ان کو شقی اور پر ہیز گار بنا دیتا ہے ورنہ نفسانی شہوات کا تند اور تیز سیلاب بازاری عورتوں کے دروازہ تک ان کو پہنچا دیتا ہے آخر آتشک اور سوزاک خریدتے یا اور کسی خطرناک مرض میں مبتلا ہوتے ہیں اور وہ کام فسق و فجور کے چھپے چھپے اور کھلے کھلے ان سے صادر ہوتے ہیں جن کی نظیر ان لوگوں میں ہرگز نہیں پائی جاتی جن کی دو دو تین تین دل پسند بیویاں ہوتی ہیں۔یہ لوگ تھوڑی مدت تک تو اپنے تئیں روکتے ہیں آخر اس قدر یک دفعہ ان کی ناجائز شہوات جوش میں آتی ہیں کہ جیسے ایک دریا کا بند ٹوٹ کر وہ دریا دن کو یا رات کو تمام اردگرد کے دیہات کو تباہ کر دیتا ہے بیچ تو یہ ہے کہ تمام کام نیت پر موقوف ہیں جو لوگ اپنے اندر یہ محسوس کرتے ہیں کہ دوسری بیوی کرنے سے ان کے تقویٰ کا سامان پورا ہو جائے گا اور وہ فسق و فجور سے بیچ جائیں گے یا یہ کہ وہ اس ذریعہ سے اپنی صالح اولاد چھوڑ جائیں گے تو ان کا یہ فرض ہے کہ وہ ضرور اس بابرکت کام سے حصہ لیں خدا کی جناب میں بدکاری اور بد نظری ایسے ناپاک گناہ ہیں جن سے نیکیاں باطل ہو جاتی ہیں اور آخر اسی دنیا میں جسمانی عذاب نازل ہو جاتے ہیں۔پس اگر کوئی تقویٰ کے محکم قلعہ میں داخل ہونے کی نیت سے ایک سے زیادہ بیویاں کرتا ہے اس کے لیے صرف جائز ہی نہیں بلکہ یہ عمل اس کے لیے موجب ثواب ہے جو شخص اپنے تئیں بدکاری سے روکنے کے لیے تعدد ازواج کا پابند ہوتا ہے وہ گویا اپنے تئیں فرشتوں کی طرح بنانا چاہتا ہے میں خوب جانتا ہوں کہ یہ اندھی دنیا صرف جھوٹی منطقوں اور جھوٹی شیخیوں میں گرفتار ہے وہ لوگ جو تقویٰ کی تلاش میں لگے نہیں رہتے کہ کیوں کر حاصل ہو اور تقویٰ کے حصول کے لیے کوئی تدبیر نہیں کرتے اور نہ دعا کرتے ہیں ان کی حالتیں اس پھوڑے کی مانند ہیں جو اوپر سے بہت چمکتا ہے مگر اس کے اندر بجز پیپ کے اور کچھ نہیں اور خدا کی طرف جھکنے والے جو کسی علامت گر کی علامت کی پروا نہیں کرتے وہ تقویٰ کی راہوں کو