تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 275 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 275

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۵ سورة النساء بزرگ لوگ ایسا کام کیوں کرتے جو وید کے برخلاف تھا ایسا ہی باوانا نک صاحب جو ہندو قوم میں ایک بڑے مقدس آدمی شمار کیے گئے ہیں ان کی بھی دو بیویاں تھیں۔اس جگہ مخالفوں کی طرف سے یہ اعتراض ہوا کرتا ہے کہ تعدد ازواج میں یہ ظلم ہے کہ اعتدال نہیں رہتا اعتدال اسی میں ہے کہ ایک مرد کے لیے ایک ہی بیوی ہو مگر مجھے تعجب ہے کہ وہ دوسروں کے حالات میں کیوں خواه نخواه مداخلت کرتے ہیں جبکہ یہ مسئلہ اسلام میں شائع متعارف ہے کہ چار تک بیویاں کرنا جائز ہے مگر جبر کسی پر نہیں اور ہر ایک مرد اور عورت کو اس مسئلہ کی بخوبی خبر ہے تو یہ ان عورتوں کا حق ہے کہ جب کسی مسلمان سے نکاح کرنا چاہیں تو اول شرط کرالیں کہ ان کا خاوند کسی حالت میں دوسری بیوی نہیں کرے گا اور اگر نکاح سے پہلے ایسی شرح لکھی جائے تو بیشک ایسی بیوی کا خاوند اگر دوسری بیوی کرے تو جرم نقص عہد کا مرتکب ہوگا۔لیکن اگر کوئی عورت ایسی شرط نہ لکھاوے اور حکم شرع پر راضی ہو وے تو اس حالت میں دوسرے کا دخل دینا بیجا ہوگا اور اس جگہ یہ شل صادق آئے گی کہ میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ہر ایک عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ خدا نے تعدّ داز واج فرض واجب نہیں کیا ہے۔خدا کے حکم کی رو سے صرف جائز ہے۔پس اگر کوئی مرد اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے اس جائز حکم سے فائدہ اٹھانا چاہے جو خدا کے جاری کردہ قانون کی رو سے ہے اور اس کی پہلی بیوی اس پر راضی نہ ہو تو اس بیوی کے لیے یہ راہ کشادہ ہے کہ وہ طلاق لے لے اور اس غم سے نجات پاوے اور اگر دوسری عورت جس سے نکاح کرنے کا ارادہ ہے اس نکاح پر راضی نہ ہو تو اس کے لیے بھی یہ سہل طریق ہے کہ ایسی درخواست کرنے والے کو انکاری جواب دے دے۔کسی پر جبر تو نہیں لیکن اگر وہ دونوں عورتیں اس نکاح پر راضی ہو جاویں تو اس صورت میں کسی آریہ کو خواہ نخواہ دخل دینے اور اعتراض کرنے کا کیا حق ہے؟ کیا اس مرد نے ان عورتوں سے نکاح کرنا ہے یا اس آریہ سے۔جس حالت میں خدا نے تعدد ازواج کو کسی موقع پر انسانی ضرورتوں میں جائز رکھا ہے اور ایک عورت اپنے خاوند کے دوسرے نکاح میں رضامندی ظاہر کرتی ہے اور دوسری عورت بھی اس نکاح پر خوش ہے تو کسی کا حق نہیں ہے کہ ان کے اس باہمی فیصلہ کو منسوخ کر دے اور اس جگہ یہ بحث پیش کرنا کہ ایک سے زیادہ بیوی کرنا پہلی بیوی کے حق میں ظلم ہے اور طریق اعتدال کے برخلاف ہے یہ ان لوگوں کا کام ہے جن کی تعصب سے عقل ماری گئی ہے۔ظاہر ہے کہ یہ مسئلہ حقوق عباد کے متعلق ہے اور جو شخص دو بیویاں کرتا ہے اس میں خدا تعالی کا حرج نہیں اگر حرج ہے تو اس بیوی کا جو پہلی بیوی ہے یا دوسری بیوی کا پس اگر پہلی بیوی اس نکاح میں اپنی حق تلفی سمجھتی