تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 270 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 270

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٢٧٠ سورة النساء نہیں ہے جو طبعی میں ہوتی ہے۔ غرض خدا نے اس طرح پر دونوں قسم کے تعلق جو آدم کے لیے خدا سے اور بنی نوع سے ہونے چاہیے تھے طبعی طور پر پیدا کیے۔ ریویو آف ریلیجیز جلد نمبر ۵ صفحه (۱۷۹) وَأتُوا الْيَتَنَى أَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ وَ لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَى أَمْوَالِكُمْ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا تم اچھی چیزوں کے عوض میں خبیث اور ردی چیزیں نہ دیا کرو یعنی جس طرح دوسروں کا مال دبا لینا نا جائز ہے اسی طرح خراب چیزیں بیچنا یا اچھی کے عوض میں بری دینا بھی نا جائز ہے۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۷، ۳۴۸) وَ إِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَثْنى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلثَ وَ رُبعَ ، فَإِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوان یتیم لڑکیاں جن کی تم پرورش کرو ان سے نکاح کرنا مضائقہ نہیں لیکن اگر تم دیکھو کہ چونکہ وہ لاوارث ہیں شاید تمہارا نفس ان پر زیادتی کرے تو ماں باپ اور اقارب والی عورتیں کرو جو تمہاری مؤدب رہیں اور ان کا تمہیں خوف رہے۔ ایک دو تین چار تک کر سکتے ہو بشرطیکہ اعتدال کرو اور اگر اعتدال نہ ہو تو پھر ایک ہی پر کفایت کرو گو ضرورت پیش آوے۔ چار کی جو حد لگا دی گئی ہے وہ اس مصلحت سے ہے کہ تا تم پرانی عادت کے تقاضے سے افراط نہ کرو یعنی صد ہا تک نوبت نہ پہنچاؤ۔ یا یہ کہ حرامکاری کی طرف جھک نہ جاؤ۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۷) اسلام سے پہلے اکثر قوموں میں کثرت ازدواج کی سینکڑوں اور ہزاروں تک نوبت پہنچ گئی تھی اور اسلام نے تعداد ازدواج کو کم کیا ہے نہ زیادہ بلکہ یہ قرآن میں ہی ایک فضیلت خاص ہے کہ اس نے ازدواج کی بیحدی اور بے قیدی کو رد کر دیا ہے اور کیا وہ اسرائیلی قوم کے مقدس نبی جنہوں نے سوسو بیوی کی بلکہ بعض نے سات سو تک نوبت پہنچائی وہ اخیر عمر تک حرام کاری میں مبتلا رہے اور کیا ان کی اولاد جن میں سے بعض راست باز بلکہ نبی بھی تھے نا جائز طریق کی اولاد سمجھی جاتی ہے؟ (حجۃ الاسلام، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ ۴۷) ۶ عرب میں صدہا بیویوں تک نکاح کر لیتے تھے اور پھر ان کے درمیان اعتدال بھی ضروری نہیں سمجھتے تھے ایک مصیبت میں عورتیں پڑی ہوئی تھیں جیسا کہ اس کا ذکر جان ڈیون پورٹ اور دوسرے بہت سے