تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 270
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۰ سورة النساء نہیں ہے جو طبعی میں ہوتی ہے۔غرض خدا نے اس طرح پر دونوں قسم کے تعلق جو آدم کے لیے خدا سے اور بنی نوع سے ہونے چاہیے تھے طبعی طور پر پیدا کیے۔ریویو آف ریلیجنز جلد انمبر ۵ صفحه ۱۷۹) وَأتُوا الْيَتَنَى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ وَلَا تَأْكُلُوا اَمْوَالَهُمْ إِلَى اَمْوَالِكُمْ إِنَّكَ كَانَ حُوبًا كَبِيران تم اچھی چیزوں کے عوض میں خبیث اور ردی چیزیں نہ دیا کرو یعنی جس طرح دوسروں کا مال دبا لیتا نا جائز ہے اسی طرح خراب چیزیں بیچنا یا اچھی کے عوض میں بری دینا بھی نا جائز ہے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۸،۳۴۷) وَإِنْ خِفْتُمُ اَلَا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَّى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَثَ وَرُبعَ : فَإِنْ خِفْتُمُ اَلا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ b أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى اَلَا تَعُولُوان یتیم لڑکیاں جن کی تم پرورش کرو ان سے نکاح کرنا مضائقہ نہیں لیکن اگر تم دیکھو کہ چونکہ وہ لاوارث ہیں شاید تمہارا نفس ان پر زیادتی کرے تو ماں باپ اور اقارب والی عورتیں کرو جو تمہاری مؤدب رہیں اور ان کا تمہیں خوف رہے۔ایک دو تین چار تک کر سکتے ہو بشر طیکہ اعتدال کرو اور اگر اعتدال نہ ہو تو پھر ایک ہی پر کفایت کرو گو ضرورت پیش آوے۔چار کی جو حد لگادی گئی ہے وہ اس مصلحت سے ہے کہ تا تم پرانی عادت کے تقاضے سے افراط نہ کرو یعنی صد با تک نوبت نہ پہنچاؤ۔یا یہ کہ حرام کاری کی طرف جھک نہ جاؤ۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۷) اسلام سے پہلے اکثر قوموں میں کثرت ازدواج کی سینکڑوں اور ہزاروں تک نوبت پہنچ گئی تھی اور اسلام نے تعداد ازدواج کو کم کیا ہے نہ زیادہ بلکہ یہ قرآن میں ہی ایک فضیلت خاص ہے کہ اس نے ازدواج کی بیدی اور بے قیدی کو رد کر دیا ہے اور کیا وہ اسرائیلی قوم کے مقدس نبی جنہوں نے سوسو بیوی کی بلکہ بعض نے سات سو تک نوبت پہنچائی وہ اخیر عمر تک حرام کاری میں مبتلا رہے اور کیا ان کی اولاد جن میں سے بعض راست باز بلکہ نبی بھی تھے ناجائز طریق کی اولاد سمجھی جاتی ہے؟ (حجتہ الاسلام، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۴۷) عرب میں صدہا بیو یوں تک نکاح کر لیتے تھے اور پھر ان کے درمیان اعتدال بھی ضروری نہیں سمجھتے تھے ایک مصیبت میں عورتیں پڑی ہوئی تھیں جیسا کہ اس کا ذکر جان ڈیون پورٹ اور دوسرے بہت سے