تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 269
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۲۶۹ سورة النساء نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ تفسير سورة النِّسَاء بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ياَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَ الأَرْحَامَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًان وتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَيذٍ يَمُوجُ في بَعْضٍ وَنُفِخَ فِى الصُّوْرِ فَجَمَعْتُهُمْ جَمْعًا (الكهف : ١٠٠) جس سے ظاہر ہے کہ نہایت درجہ کا اختلاف پیدا ہو جائے گا اور سب مذاہب ایک دنگل میں ہو کر نکلیں گے۔"دنا" کا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آزادی کا زمانہ ہوگا اور یہ آزادی کمال تک پہنچ جائے گی تو اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے مامور کی معرفت ان کو جمع کرنے کا ارادہ کرے گا پہلے دیکھو جمعتهم فرمایا اور ود ابتدائے عالم کے لئے خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءَ فرما یا: لفظ بَثَّ اور جمع آپس میں پورا تناقض رکھتے ہیں گو یا دائرہ پورا ہو کر پھر وہی زمانہ ہو جائے گا پہلے تو وحدت شخصی تھی۔اب اخیر میں وحدت نوعی ہو جائے گی۔( بدر جلدے نمبر ۳ مورخه ۲۳ /جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۳) وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا یعنی آدم کے وجود میں سے ہی ہم نے اس کا جوڑا پیدا کیا جو حوا ہے تا آدم کا یہ تعلق حوا اور اس کی اولاد سے طبعی ہو نہ بناوٹی اور یہ اس لیے کیا کہ تا آدم زادوں کے تعلق اور ہمدردی کو بقا ہو کیونکہ طبعی تعلقات غير منفك ہوتے ہیں مگر غیر طبعی تعلقات کے لئے بقا نہیں ہے کیونکہ ان میں وہ باہمی کشش