تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 267
سورة ال عمران تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام قسم کے اسلحوں سے ضروری ہے کیونکہ آج کل امن و امان کا زمانہ ہے اور ہم کو ہر طرح کی آسائش اور امن حاصل ہے آزادی سے ہر آدمی اپنے مذہب کی اشاعت اور تبلیغ اور احکام کی بجا آوری کر سکتا ہے پھر اسلام جو امن کا سچا حامی ہے بلکہ حقیقتا امن اور سلم اور آشتی کا اشاعت کنندہ ہی اسلام ہے کیوں کر اس زمانہ امن و آزادی میں اس پہلے نمونہ کو دکھانا پسند کر سکتا تھا۔پس آج کل وہی دوسرا نمونہ یعنی روحانی مجاہدہ رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ء صفحه ۶۵ تا ۶۷)۔مطلوب ہے۔جس طرح دشمن کے مقابلہ پر سرحد پر گھوڑا ہونا ضروری ہے تا کہ وہ حد سے نہ نکلنے پاوے۔اسی طرح تم بھی تیار رہو ایسا نہ ہو کہ دشمن سرحد سے گزر کر اسلام کو صدمہ پہنچائے۔۔۔۔۔اگر تم اسلام کی حمایت اور خدمت کرنا چاہتے ہو تو پہلے خود تقویٰ اور طہارت اختیار کرو۔جس سے خود تم خدائے تعالی کی پناہ کے حصن حصین میں آسکو اور پھر تم کو اس خدمت کا شرف اور استحقاق حاصل ہو۔تم دیکھتے ہو کہ مسلمانوں کی بیرونی طاقت کیسی کمزور ہو گئی ہے۔قومیں ان کو نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتی ہیں۔اگر تمہاری اندرونی اور قلبی طاقت بھی کمزور اور پست ہو گئی تو بس پھر تو خاتمہ ہی سمجھو۔تم اپنے نفسوں کو ایسے پاک کرو کہ قدسی قوت ان میں سرایت کرے۔اور وہ سرحد کے گھوڑوں کی طرح مضبوط اور محافظ ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہمیشہ متقیوں اور راست بازوں ہی کے شامل حال ہوا کرتا ہے۔اپنے اخلاق اور اطوار ایسے نہ بناؤ جن سے اسلام کو داغ لگ جاوے۔بدکاروں اور اسلام کی تعلیم پر عمل نہ کرنے والے مسلمانوں سے اسلام کو داغ لگتا ہے۔کوئی مسلمان شراب پی لیتا ہے تو کہیں قے کرتا پھرتا ہے۔پگڑی گلے میں ہوتی ہے موریوں اور گندے نالوں میں گرتا پھرتا ہے۔پولیس کے جوتے پڑتے ہیں۔ہند و اور عیسائی اس پر ہنستے ہیں۔اب اس کا ایسا خلاف شرع فعل اس کی ہی تضحیک کا موجب نہیں ہوتا بلکہ در پردہ اس کا اثر نفس اسلام تک پہنچتا ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۸۱،۸۰) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا صبر ایک نقطہ کی طرح پیدا ہوتا ہے اور پھر دائرہ کی شکل اختیار کر کے سب پر محیط ہو جاتا ہے آخر بد معاشوں پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ انسان تقومی کو ہاتھ سے نہ دے اور تقویٰ کی راہوں پر مضبوط قدم مارے کیونکہ متقی کا اثر ضرور پڑتا ہے اور اس کا رعب مخالفوں کے دل میں بھی پیدا ہو جاتا ہے۔رپورٹ جلسه سالانه ۱۸۹۷ء صفحه ۸۲، ۸۳)