تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 266
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۶۶ سورة ال عمران ورزش اور مشق کر کے بازو میں توانائی اور قوت پیدا نہ کی جاوے۔اب اگر ایک شخص جو تلوار چلانا تو جانتا ہے لیکن ورزش اور مشق نہیں رکھتا تو میدان حرب میں جا کر جو نہی تین چار دفعہ تلوار کو حرکت دے گا اور دو ایک ہاتھ مارے گا اس کے بازو نکھے ہو جائیں گے اور وہ تھک کر بالکل بیکار ہو جائے گا اور خود ہی آخر د شمن کا شکار ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔جیسا ابھی میں نے بیان کیا کہ میدان کارزار میں کامیاب ہونے کے لیے جہاں ایک طرف طریق استعمال اسلحہ وغیرہ کی تعلیم اور واقفیت کی ضرورت ہے۔وہاں دوسری طرف ورزش اور محل استعمال کی بھی بڑی بھاری ضرورت ہے اور نیز حرب و ضرب میں تعلیم یافتہ گھوڑے چاہیں یعنی ایسے گھوڑے جو تو پوں اور بندوقوں کی آواز سے نہ ڈریں اور گرد و غبار سے پراگندہ ہو کر پیچھے نہ ہٹیں بلکہ آگے ہی بڑھیں اسی طرح نفوسِ انسانی کامل ورزش اور پوری ریاضت اور حقیقی تعلیم کے بغیر اعداء اللہ کے مقابل میدان کارزار میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔لغت عرب بھی عجیب چیز ہے مقابلہ بھی اسی پر ختم ہے رباط کا لفظ جو آ یہ مذکورہ میں آیا ہے جہاں دنیاوی جنگ و جدل اور فنون جنگ کی فلاسفی پر مشتمل ہے وہاں روحانی طور پر اندرونی جنگ اور مجاہدہ نفس کی حقیقت اور خوبی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔یہ ایک عجیب سلسلہ ہے۔۔۔۔۔۔اب دیکھو کہ یہی رباط کا لفظ جو ان گھوڑوں پر بولا جاتا ہے جو سرحد پر دشمنوں سے حفاظت کے لیے باندھے جاتے ہیں ایسا ہی یہ لفظ ان نفسوں پر بھی بولا جاتا ہے جو اس جنگ کی تیاری کے لیے تعلیم یافتہ ہوں جو انسان کے اندر ہی اندر شیطان سے ہر وقت جاری ہے۔یہ بالکل ٹھیک بات ہے کہ اسلام کو دو قو تیں جنگ کی دی گئیں تھیں ایک قوت وہ تھی جس کا استعمال صد راول میں بطور مدافعت و انتقام کے ہوا یعنی مشرکین عرب نے جب ستایا اور تکلیفیں دیں تو ایک ہزار نے ایک لاکھ کفار کا مقابلہ کر کے شجاعت کا جو ہر دکھایا اور ہر امتحان میں اس پاک قوت وشوکت کا ثبوت دیا۔وہ زمانہ گزر گیا اور رباط کے لفظ میں جو فلاسفی ظاہری قوت جنگ اور فنون جنگ کی مخفی تھی وہ ظاہر ہوگئی ہے۔اب اس زمانہ میں جس میں ہم ہیں جنگ ظاہری کی مطلق ضرورت اور حاجت نہیں بلکہ ان آخری دنوں میں جنگ باطنی کے نمونے دکھانے مطلوب تھے اور روحانی مقابلہ زیر نظر تھا کیونکہ اس وقت باطنی ارتداد اور الحاد کی اشاعت کے لیے بڑے بڑے سامان اور اسلحہ بنائے گئے اس لیے ان کا مقابلہ بھی اسی