تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 265
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۵ سورة ال عمران جاہلوں کی تو ہین اور تحقیر اور بد زبانیوں اور گالیوں سے اعراض کریں اور ان تدبیروں میں اپنا وقت ضائع نہ کریں کہ کیوں کر ہم بھی ان کو سزا دلاویں۔ بدی کے مقابل پر بدی کا ارادہ کرنا ایک معمولی بات ہے کمال میں داخل نہیں۔ کمال انسانیت یہ ہے کہ ہم حتی الوسع گالیوں کے مقابل پر اعراض اور درگزر کی خو اختیار کریں۔ البلاغ فریاد درد، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۳۹۱، ۳۹۲) اور سرحد پر اپنے گھوڑے باندھے رکھو کہ خدا کے دشمن اور تمہارے دشمن اس تمہاری تیاری اور استعداد سے ڈرتے رہیں ۔ اے مومنو! صبر اور مصاہرت اور مرابطت کرو۔ رباط ان گھوڑوں کو کہتے ہیں جو دشمن کی سرحد پر باندھے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ صحابہ کو اعدا کے مقابلہ کے لیے مستعد رہنے کا حکم دیتا ہے اور اس رباط کے لفظ سے انہیں پوری اور سچی تیاری کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ان کے سپر د دو کام تھے؛ ایک ظاہری دشمنوں کا مقابلہ اور ایک وہ روحانی مقابلہ کرتے تھے اور رباط لغت میں نفس اور انسانی دل کو بھی کہتے ہیں۔ اور پھر ایک لطیف بات ہے کہ گھوڑے وہی کام آتے ہیں جو سدھائے ہوئے اور تعلیم یافتہ ہوں ۔ آج کل گھوڑوں کی تعلیم و تربیت کا اسی انداز پر لحاظ رکھا جاتا ہے اور اسی طرح ان کو سدھا یا سکھا یا جاتا ہے جس طرح بچوں کو سکولوں میں خاص احتیاط اور اہتمام میں تعلیم دی جاتی ہے اگر ان کو تعلیم نہ دی جائے اور وہ سدھائے نہ جائیں تو وہ بالکل نکھے ہوں اور وہ بجائے مفید ہونے کے خوفناک اور مضر ثابت ہوں ۔ یہ اشارہ اس امر کی طرف بھی ہے کہ انسانوں کے نفوس یعنی رباط بھی تعلیم یافتہ چاہئیں اور ان کے قومی اور طاقتیں ایسی ہونی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ کی حدود کے نیچے نیچے چلیں کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو وہ اس حرب اور جدال کا کام نہ دے سکیں گے جو انسان اور اس کے خوفناک دشمن یعنی شیطان کے درمیان اندرونی طور پر ہر لحظہ اور ہر آن جاری ہے جیسا کہ لڑائی اور میدان جنگ میں علاوہ قوائے بدنی کے تعلیم یافتہ ہونا بھی ضروری ہے اسی طرح اس اندرونی حرب اور جہاد کے لیے نفوس انسانی کی تربیت اور مناسب تعلیم مطلوب ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ شیطان اس پر غالب آجائے گا اور وہ بہت بری طرح ذلیل اور رسوا ہو گا مثلاً اگر ایک شخص توپ و تفنگ، اسلحه حرب بندوق و غیره تو رکھتا ہو لیکن اس کے استعمال اور چلانے سے نا واقف محض ہو تو وہ دشمن کے مقابلہ میں کبھی عہدہ برآنہیں ہو سکتا اور تیر و تفنگ اور سامانِ حرب بھی ایک شخص رکھتا ہو اور ان کا استعمال بھی جانتا ہولیکن اس کے بازو میں طاقت نہ ہو تو بھی وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ صرف طریق اور طرز استعمال کا سیکھ لینا بھی کارآمد اور مفید نہیں ہو سکتا جب تک کہ