تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 260
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۰ سورة ال عمران گندے اور نا پاک حملے کرے بلکہ اکثر اُن کی تحریریں اور تالیفیں اپنے مذہب تک ہی محدود تھیں قریباً تیرھویں صدی ہجری سے اسلام کی نسبت بدگوئی کا دروازہ کھلا جس کے اول بانی ہمارے ملک میں پادری فنڈل صاحب تھے بہر حال اس پیشگوئی میں مسلمانوں کو یہ حکم تھا کہ جب تم دل آزار کلمات سے دکھ دیے جاؤ اور گالیاں سنو تو اس وقت صبر کرو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا۔سو قر آنی پیشگوئی کے مطابق ضر ور تھا کہ ایسا زمانہ بھی آتا کہ ایک مقدس رسول کو جس کی امت سے ایک حصہ کثیر دنیا کا پُر ہے، عیسائی قوم جیسے لوگ جن کا تہذیب کا دعوی تھا گالیاں دیتے اور اس بزرگ نبی کا نام نعوذ باللہ ! زانی اور ڈاکو اور چور رکھتے اور دنیا کے سب بد تروں سے بدتر ٹھہراتے بیشک یہ ان لوگوں کے لیے بڑے رنج کی بات ہے جو اس پاک رسول کی راہ میں فدا ہیں۔اور ایک دانشمند عیسائی بھی احساس کر سکتا ہے کہ جب مثلاً ایسی کتاب امہات المومنین میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ زناکار کے نام سے پکارا گیا اور گندے سے گندے تحقیر کے الفاظ آنجناب کے حق میں استعمال کئے گئے اور پھر عمد اہزار کا پی اس کتاب کی محض دلوں کے دکھانے کے لیے عام اور خاص مسلمانوں کو پہنچائی گئی اس سے کس قدر دردناک زخم عام مسلمانوں کو پہنچے ہوں گے اور کیا کچھ ان کے دلوں کی حالت ہوئی ہوگی اگرچہ بدگوئی میں یہ کچھ پہلی ہی تحریر نہیں ہے بلکہ ایسی تحریروں کی پادری صاحبوں کی طرف سے کروڑ ہا تک نوبت پہنچ گئی ہے مگر یہ طریق دل دکھانے کا ایک نیا طریق ہے کہ خواہ مخواہ غافل اور بے خبر لوگوں کے گھروں میں یہ کتابیں پہنچائی گئیں اور اسی وجہ سے اس کتاب پر بہت شور بھی اٹھا ہے باوجود اس بات کے کہ پادری عمادالدین اور پادری ٹھا کر داس کی کتابیں اور نور افشاں کی پچیس سال کی مسلسل تحریر میں سختی میں اس سے کچھ کم نہیں ہیں یہ تو سب کچھ ہوا مگر ہمیں آیت موصوفہ بالا میں یہ تاکیدی حکم ہے کہ جب ہم ایسی بدزبانی کے کلمات سنیں جس سے ہمارے دلوں کو دکھ پہنچے تو ہم صبر کریں۔(کتاب البریہ ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۳۱۹٬۳۱۸) لا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُونَ بِمَا اَتَوا وَ يُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ دو، يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُم بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيم 119 اور چاہتے ہیں کہ ان کاموں کے ساتھ تعریف کئے جائیں جن کو وہ کرتے نہیں سو تو یہ گمان مت کر کہ یہ لوگ عذاب سے بچ جائیں گے ان کے لئے ایک دردناک عذاب مقرر ہے۔(براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۶۱،۲۶۰ حاشیہ نمبر ۱۱)