تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 261
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۱ سورة ال عمران اِنَّ فِي خَلْقِ السَّبُوتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَا يَتِ لِأُولِي الأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَ يَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّبُوتِ وَ الْاَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ١٩٢ یعنی آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے اختلاف میں دانشمندوں کے لئے صانع عالم کی جستی اور قدرت پر کئی نشان ہیں۔دانشمند وہی لوگ ہوتے ہیں کہ جو خدا کو بیٹھے، کھڑے اور پہلو پر پڑے ہونے کی حالت میں یاد کرتے رہتے ہیں اور زمین اور آسمان اور دوسری مخلوقات کی پیدائش میں تفکر اور تدیر کرتے رہتے ہیں اور ان کے دل اور زبان پر یہ مناجات جاری رہتی ہے کہ اے ہمارے خداوند ! تو نے ان چیزوں میں سے کسی چیز کو عبث اور بیہودہ طور پر پیدا نہیں کیا بلکہ ہر یک چیز تیری مخلوقات میں سے عجائبات قدرت اور حکمت سے بھری ہوئی ہے کہ جو تیری ذات بابرکات پر دلالت کرتی ہے۔( برا این احمد یہ چهار تص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۳۰۶٬۳۰۵ حاشیہ نمبر ۱۱) رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ یعنی جب دانشمند اور اہل عقل انسان زمین اور آسمان کے اجرام کی بناوٹ میں غور کرتے اور رات اور دن کی کمی بیشی کے موجبات اور علل کو نظر عمیق سے دیکھتے ہیں انہیں اس نظام پر نظر ڈالنے سے خدا تعالیٰ کے وجود پر دلیل ملتی ہے۔پس وہ زیادہ انکشاف کے لئے خدا سے مدد چاہتے ہیں اور اس کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر اور کروٹ پر لیٹ کر یاد کرتے ہیں جس سے ان کی عقلیں بہت صاف ہو جاتی ہیں۔پس جب وہ ان عقلوں کے ذریعہ سے اجرام فلکی اور زمینی کی بناوٹ احسن اور اولی میں فکر کرتے ہیں۔تو بے اختیار بول اٹھتے ہیں کہ ایسا نظام ابلغ اور محکم ہرگز باطل اور بے سود نہیں بلکہ صانع حقیقی کا چہرہ دکھلا رہا ہے۔پس وہ الوہیت صانع عالم کا اقرار کر کے یہ مناجات کرتے ہیں یا الہی تو اس سے پاک ہے کہ کوئی تیرے وجود سے انکار کر کے نالائق صفتوں سے تجھے موصوف کرے۔سو تو ہمیں دوزخ کی آگ سے بچا۔یعنی تجھ سے انکار کرنا عین دوزخ ہے اور تمام آرام اور راحت تجھ میں اور تیری شناخت میں ہے۔جو شخص کہ تیری کچی شناخت سے محروم رہا وہ در حقیقت اسی دنیا میں آگ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۳۴) میں ہے۔