تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 257
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۵۷ سورة ال عمران يُريدُ اللهُ اَلَا يَجْعَلَ لَهُمْ حَقًّا فِي الْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ o اور تجھے کافروں کی بداندیشی سے غم ناک نہیں ہونا چاہئے وہ خدا کے دین کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکیں گے اور ان کے لئے خدا نے بزرگ عذاب مقرر کر رکھا ہے۔b (براہین احمدیہ چهار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۳ حاشیہ نمبر ۱۱) مَا كَانَ اللهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا اَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَبِيْزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ فَأمِنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ ۚ وَإِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ ۱۸۰ ص ج اجرٌ عَظِيمٌ یہ بیچ اور بالکل سچ ہے کہ خدا تعالیٰ پر کامل ایمان اسی دن انسان کو نصیب ہوتا ہے کہ جب اللہ جل شانہ اپنے وجود سے آپ خبر دیتا ہے اور پھر دوسری علامت خدا تعالیٰ کی محبت کی یہ ہے کہ اپنے پیارے بندوں کو صرف اپنے وجود کی خبر ہی نہیں دیتا بلکہ اپنی رحمت اور فضل کے آثار بھی خاص طور پر اُن پر ظاہر کرتا ہے اور وہ اس طرح پر کہ اُن کی دُعائیں جو ظاہری اُمیدوں سے زیادہ ہوں قبول فرما کر اپنے الہام اور کلام کے ذریعہ سے ان کو اطلاع دے دیتا ہے تب اُن کے دل تسلی پکڑ جاتے ہیں کہ یہ ہمارا قادر خدا ہے جو ہماری دُعائیں سنتا اور ہم کو اطلاع دیتا اور مشکلات سے ہمیں نجات بخشتا ہے۔اسی روز سے نجات کا مسئلہ بھی سمجھ آتا ہے اور خدا تعالیٰ کے وجود کا بھی پتہ لگتا ہے اگر چہ جگانے اور متنبہ کرنے کے لئے کبھی کبھی غیروں کو بھی سچی خواب آسکتی ہے مگر اس طریق کا مرتبہ اور شان اور رنگ اور ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا مکالمہ ہے جو خاص مقربوں سے ہی ہوتا ہے اور جب مقرب انسان دُعا کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اپنی خدائی کے جلال کے ساتھ اس پر تجلی فرماتا ہے اور اپنی رُوح اُس پر نازل کرتا ہے اور اپنی محبت سے بھرے ہوئے لفظوں کے ساتھ اس کو قبول دُعا کی بشارت دیتا ہے اور جس کسی سے یہ مکالمہ کثرت سے وقوع میں آتا ہے اس کو نبی یا محدث کہتے ہیں اور بچے مذہب کی یہی نشانی ہے کہ اس مذہب کی تعلیم سے ایسے راستباز پیدا ہوتے رہیں جو محدث کے مرتبہ تک پہنچ جائیں جن سے خدا تعالی آمنے سامنے کلام کرے اور اسلام کی حقیت اور حقانیت کی اول نشانی یہی ہے کہ اس میں ہمیشہ ایسے راستباز جن سے خدا تعالیٰ ہم کلام ہو پیدا ہوتے ہیں۔تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيكَةُ