تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 253
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۳ سورة ال عمران وَمَا كَانَ لِنَبِي أَنْ يَغُلَ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَ يَوْمَ الْقِيمَةِ ثُمَّ تُوَقُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ) عیسائی بیان کرتے ہیں کہ انبیاء بھی اسی طرح گناہ کر سکتے ہیں جیسا کہ دوسرے لوگ اور یہ کہ انبیاء اور دوسرے لوگوں میں اس بارہ میں کوئی فرق نہیں۔قرآن شریف اس کی تردید کرتا ہے وہ اس بارے میں انبیاء اور دوسرے لوگوں میں صاف تمیز کرتا ہے جب بعض لوگوں نے شک کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں سے زیادہ حصہ لے لیا ہے تو خدائے تعالیٰ نے ان کے شبہات کا اس طرح جواب دیا: مَا كَانَ لِنَبِي أَنْ يَغْلَ ( ترجمہ ) نبی کی شان سے یہ بعید ہے کہ وہ مال غنیمت میں خیانت کرے جس طرز میں خداوند تعالیٰ نے جواب دیا ہے۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ گناہ کے بارے میں خدا تعالیٰ انبیاء کو اور دوسرے لوگوں کو مساوات کی نظر سے نہیں دیکھتا۔خدائے تعالیٰ ان کے شبہوں کا یوں جواب دے سکتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ میں کوئی خیانت نہیں کی، برخلاف اس کے خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی نبی ایسا کام کرے۔اس سے معلوم ہوا کہ خدائے تعالیٰ کے نزدیک انبیاء اور دوسرے لوگ گناہ کے معاملہ میں مساوی نہیں ہیں جیسا کہ عیسائیوں کا خیال ہے۔خدا یہاں ایک قسم کے گناہ کا ذکر اس لیے کرتا ہے کہ موجودہ صورت میں اسی قسم کا الزام لگایا گیا تھا اور یہی الزام تھا جس سے خدائے تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بری کرنا چاہتا تھا۔ریویو آف ریلیجنز جلد ۲ نمبر ۶ صفحه ۲۴۲) لَقَد مَنَ اللهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِينٍ (۱۶۵) ج صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں تو یقین کے چشمے جاری تھے اور وہ خدائی نشانوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے اور انہیں نشانوں کے ذریعہ سے خدا کے کلام پر انہیں یقین ہو گیا تھا اس لئے ان کی زندگی نہایت پاک ہو گئی تھی۔لیکن بعد میں جب وہ زمانہ جاتا رہا اور اس زمانہ پر صد ہا سال گزر گئے تو پھر ذریعہ