تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 252
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۲ سورة ال عمران انسان کو چاہیے کہ تقویٰ کو ہاتھ سے نہ دیوے اور خدا پر بھروسہ رکھے تو پھر اسے کسی قسم کی تکلیف نہیں ہو سکتی۔ خدا پر بھروسہ کے یہ معنے نہیں ہیں کہ انسان تدبیر کو ہاتھ سے چھوڑ دے بلکہ یہ معنے ہیں کہ تدبیر پوری کر کے پھر انجام کو خدا پر چھوڑے اس کا نام تو کل ہے۔ اگر وہ تدبیر نہیں کرتا اور صرف تو کل کرتا ہے تو اس کا تو کل پھوکا (جس کے اندر کچھ نہ ہو ) ہوگا اور اگر نری تدبیر کر کے اس پر بھروسہ کرتا ہے اور خدا پر تو کل نہیں ہے تو وہ تدبیر بھی پھوکی (جس کے اندر کچھ نہ ہو ) ہوگی ۔ ایک شخص اونٹ پر سوار تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے دیکھا تعظیم کے لیے نیچے اترا اور ارادہ کیا کہ توکل کرے اور تدبیر نہ کرے چنانچہ اس نے اپنے اونٹ کا گھٹنا نہ باندھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل کر آیا تو دیکھا کہ اونٹ نہیں ہے واپس آ کر آنحضرت صلی اللہ وسلم سے شکایت کی کہ میں نے تو تو کل کیا تھا لیکن میرا اونٹ جاتا رہا آپ نے فرمایا کہ تو نے غلطی کی پہلے اونٹ کا گھٹا باندھتا اور پھر توکل کرتا تو ٹھیک ہوتا۔ او البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ء صفحه (۲) ایک روز میں نے حضور اقدس کی خدمت میں اندر بیٹھا تھا خدا تعالیٰ پر توکل کی بات چل پڑی حضور اقدس نے فرمایا : میں اپنے قلب کی عجیب کیفیت پاتا ہوں جیسے سخت جبس ہوتا اور گرمی کمال شدت کو پہنچ جاتی ہے لوگ وثوق سے امید کرتے ہیں کہ اب بارش ہوگی ایسا ہی جب اپنی صندوقچی کو خالی دیکھتا ہوں تو مجھے خدا کے فضل پر یقین واثق ہوتا ہے کہ اب یہ بھرے گی اور ایسا ہی ہوتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر فرمایا کہ: جب میرا کیسہ خالی ہوتا ہے جو ذوق وسرور خدا تعالیٰ پر توکل کا اس وقت مجھے حاصل ہوتا ہے میں اس کی کیفیت بیان نہیں کر سکتا اور وہ حالت بہت ہی زیادہ راحت بخش اور طمانیت انگیز ہوتی ہے یہ نسبت اس کے کہ کیسہ بھرا ہوا ہو۔ اور فرمایا : ان دنوں میں جبکہ دنیوی مقدمات کی وجہ سے والد صاحب اور بھائی صاحب طرح طرح کے ہموم و عموم میں مبتلا رہتے تھے وہ بسا اوقات میری حالت دیکھ کر رشک کھاتے اور فرماتے تھے کہ یہ بڑا ہی خوش نصیب آدمی ہے اس کے نزدیک کوئی غم نہیں آتا۔ لے یعنی حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی الحکم جلد ۳ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ اگست ۱۸۹۹ء صفحه ۴)