تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 251

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۱ سورة ال عمران ہیں اور ہزاروں مصائب ہیں جو ان اسباب کو بھی بربا دو تہ و بالا کر سکتے ہیں ان کی دست برد سے بچا کر ہمیں سچی کامیابی اور منزل مقصود پر پہنچا۔تو کل ایک طرف سے تو ڑ اور ایک طرف جوڑ کا نام ہے۔احکام جلد نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۱۰) البدر جلد ۲ نمبر ۹ مورخه ۲۰ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۶۶) جب انسان خدا پر سے بھروسا چھوڑتا ہے تو دہریت کی رگ اس میں پیدا ہو جاتی ہے خدا پر بھروسہ اور ایمان اس کا ہوتا ہے جو اسے ہر بات پر قادر جانتا ہے۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۲ مورخه ۱/۱۰ پریل ۱۹۰۳ صفحه ۹۲) اسلام کی خدمت جو شخص درویشی اور قناعت سے کرتا ہے وہ ایک معجزہ اور نشان ہو جاتا ہے جو جمعیت کے ساتھ کرتا ہے اس کا مزا نہیں آتا۔کیونکہ توکل علی اللہ کا پورا لطف نہیں رہتا اور جب تو کل پر کام کیا جاوے تو خدا مدد کرتا ہے اور یہ باتیں روحانیت سے پیدا ہوتی ہیں جب روحانیت انسان کے اندر پیدا ہو تو وہ وضع بدل دیتا ہے۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح پر صحابہ کی وضع بدل دی؟ یہ سارا کام اس کشش نے کیا جو صادق کے اندر ہوتی ہے۔یہ خیالات باطل ہیں کہ کئی لاکھ روپیہ ہو تو کام چلے خدا تعالی پر توکل کر کے جب ایک کام شروع کیا جاوے اور اصل غرض اس کے دین کی خدمت ہو تو وہ خود مددگار ہو جاتا ہے اور سارے سامان اور اسباب بہم پہنچا دیتا ہے۔(الحکم جلدے نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ رجون ۱۹۰۳ صفحه ۴) جولوگ اپنی قوت بازو پر بھروسہ کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کو چھوڑتے ہیں ان کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہاتھ پیر توڑ کر بیٹھے رہنے کا نام خدا پر بھروسہ ہے۔اسباب سے کام لینا اور خدا تعالیٰ کے عطا کردہ قومی کو کام میں لگانا۔یہ بھی خدا تعالیٰ کی قدر ہے جو لوگ ان قومی سے کام نہیں لیتے اور منہ سے کہتے ہیں کہ ہم خدا پر بھروسہ کرتے ہیں وہ بھی جھوٹے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی قدر نہیں کرتے ( بلکہ ) خدا تعالیٰ کو آزماتے ہیں اور اس کی عطا کی ہوئی قوتوں اور طاقتوں کو اغو قرار دیتے ہیں اور اس طرح پر اس کے حضور شوخی اور گستاخی کرتے ہیں۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ کے مفہوم سے دور جا پڑتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے اور اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا ظہور چاہتے ہیں۔یہ مناسب نہیں! جہاں تک ممکن اور طاقت ہو رعایت اسباب کرے لیکن ان اسباب کو اپنا معبود اور مشکل کشا قرار نہ دے بلکہ کام لے کر پھر تفویض الی اللہ کرے اور اس بات پر سجدات شکر بجالائے کہ اسی خدا نے وہ قومی اور طاقتیں اس کو عطا فرمائی ہیں۔وو الحکم جلد ۹ نمبر ۱۳ مورخه ۱۷ /اپریل ۱۹۰۵ ء صفحه ۵)