تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 250
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۰ سورة ال عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلهِ یعنی تمام امر خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں تمہیں اپنے رسول کریم کا تابع رہنا چاہیئے ۔ اب دیکھنا چاہیئے کہ اس آیت کو قدر سے کیا تعلق ہے؟ سوال تو صرف بعض آدمیوں کا اتنا تھا کہ اگر ہماری صلاح اور مشورہ لیا جاوے تو ہم اس کے مخالف صلاح دیں تو اللہ تعالیٰ نے اُن کو منع فرمایا کہ اس امر کی اجتہاد پر بنا نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۳۱، ۲۳۲) فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمْ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَا نُفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ ) یہ خدا کی رحمت ہے کہ تو ان پر نرم ہوا اور اگر تو سخت دل ہوتا تو یہ لوگ تیرے نزدیک نہ آتے اور تجھ سے الگ ہو جاتے ۔ براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۹۲ حاشیه در حاشیه نمبر (۳) ایک شخص نے اپنی خانگی تکالیف کا ذکر کیا۔ فرمایا: پورے طور پر خدا پر توکل یقین اور امید رکھو تو سب کچھ ہو جاوے گا اور ہمیں خطوط سے ہمیشہ یاد کراتے رہا کر وہم دعا کریں گے۔ البدر جلد ا نمبر ۶،۵ مورخه ۲۸ نومبر و ۱۵ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۳۷) انسان کو مشکلات کے وقت اگر چہ اضطراب تو ہوتا ہے مگر چاہیے کہ تو کل کو کبھی بھی ہاتھ سے نہ دے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بدر کے موقعہ پر سخت اضطراب ہوا تھا چنانچہ عرض کرتے تھے کہ : يارب ان أَهْلَكْتَ هَذِهِ الْعِصَابَةَ فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا مگر آپ کا اضطراب فقط بشری تقاضا سے تھا کیونکہ دوسری طرف تو کل کو آپ نے ہرگز ہاتھ سے نہیں جانے دیا تھا آسمان کی طرف نظر تھی اور یقین تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ یاس کو قریب نہیں آنے دیا تھا۔ ایسے اضطرابوں کا آنا تو انسانی اخلاق اور مدارج کی تکمیل کے واسطے ضروری ہے مگر انسان کو چاہیے کہ یاس کو پاس نہ آنے دے کیونکہ یاس تو کفار کی صفت ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۱۰ مورخہ ۷ ار مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۳) تو کل یہی ہے کہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے کسی امر کے حاصل کرنے کے واسطے مقرر کیے ہوئے ہیں ان کو حتی المقدور جمع کرو اور پھر خود دعاؤں میں لگ جاؤ کہ (اے ) خدا تو ہی اس کا انجام بخیر کر۔ صدہا آفات