تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 248

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۸ سورة ال عمران حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس واقع سے خبر پا کر مسجد میں آئے اور منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا جس میں ابتداء یہی آیت پڑھی: مَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَا بِنْ مَاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى اعقابکم الا اس وقت صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم ) اس آیت کو سن کر رو پڑے اور یہ سمجھا کہ گویا یہ آیت آج ہی اتری ہے اور حضرت عمر نے بھی جن کو اتنا جوش تھا کہ تلوار لیے پھرتے تھے اور ان کا یہ خیال تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی وفات نہیں پائی اس خطبہ کے بعد تلوار چھوڑ دی اور پھر کبھی کوئی ایسا ذکر نہ کیا۔اب ظاہر ہے کہ اگر صحابہ میں سے کسی ایک نفس واحد کا بھی یہ اعتقاد ہوتا کہ حضرت عیسی زندہ جسم عنصری آسمان پر ہیں تو کیوں وہ اس وقت اعتراض نہ کرتے اور کہتے کہ کیا وجہ ہے کہ ایک چھوٹی سی قوم کا رسول تو زندہ ہے پر ہمارا رسول جس کو خدا نے تمام جہان کے واسطے قیامت تک کی تمام انسانی نسلوں کے لیے بلا کسی خصوصیت کے بھیجا۔وہ تو ستر برس تک بھی زندہ نہ رہ سکے ؟ پس صحابہ کا سکوت اور خاموشی اور کسی قسم کا کوئی اعتراض نہ کرنا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ تمام صحابہ حضرت عیسی کو دوسرے انبیاء کی طرح وفات یافتہ یقین کرتے تھے اور کسی ایک کا بھی ہرگز یہ اعتقاد نہ تھا کہ وہ آسمان پر زندہ جسم عصری خدا کے داہنے ہاتھ بیٹھے ہیں اور یہ اسلام میں سب سے پہلا اجماع ہے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۷ ۴ مورخه ۱۴ راگست ۱۹۰۸ صفحه ۲) وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ كِتبًا مُوجَلًا وَ مَنْ يُرِدُ ثوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا ۚ وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا وَ سَنَجْزِي الشكِرِينَ سچ تو یہ ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کسی جاندار پر حقیقی موت وارد نہ کرے وہ مر نہیں سکتا۔اگر چہ ٹکڑے ٹکڑے کیا جاوے۔۔۔مَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ - (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۰۵ حاشیه ) قرآن شریف میں ہے مَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ - تَمُوت میں روحانی اور جسمانی دونوں باتیں رکھی ہوئی ہیں ایسے ہی ہدایت اور ضلالت خدا کے ہاتھ میں ہیں۔الحکم جلد ۶ نمبر ۸ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۲ صفحه ۳)