تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 244

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۴ سورة ال عمران جبکہ آیت میں استثنا نہ تھا اور امر واقعی یہی تھا اس لیے سب صحابہ نے بالا تفاق اس امر کو تسلیم کر لیا۔ ۔۔۔۔۔۔ اب مولویوں سے پوچھو کہ ابو بکر دانشمند تھا یا نہیں ؟ کیا یہ وہ ابو بکر نہیں جو صدیق کہلایا ؟ کیا یہی وہ شخص نہیں جو سب سے پہلے خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بنا جس نے اسلام کی بہت بڑی خدمت کی کہ خطرناک ارتداد کی وباء کو روک دیا۔ اچھا اور باتیں جانے دو یہی بتاؤ کہ ابوبکر کو منبر پر چڑھنے کی کیا ضرورت پیش آئی تھی؟ پھر تقویٰ سے یہ بتاؤ کہ انہوں نے جو : مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ پڑھا تو اس سے استدلال تام کرنا تھا یا ایسا ناقص کہ ایک بچہ بھی کہہ سکتا کہ عیسیٰ کو موٹی سمجھنے والا کافر ہوتا ہے۔ افسوس ان مخالفوں نے میری مخالفت اور عداوت میں یہی نہیں کہ قرآن کو چھوڑا بلکہ میری عداوت نے ان کی یہاں تک نوبت پہنچائی ہے کہ صحابہ کی کل جماعت پر انہوں نے اپنے طریق عمل سے کفر کا فتویٰ دے دیا۔ اور حضرت ابو بکر صدیق کے استدلال کو استخفاف کی نظر سے دیکھا۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۴ مورخہ ۷ اراپریل ۱۹۰۱ء صفحہ ۲،۱) ایک سنت یہ بھی تھی کہ آپ فوت ہو گئے قرآن شریف میں تھا کہ : مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ یعنی سب مر گئے وہ بھی مرے گا خدا کی بات پوری ہو گئی کہ آپ مر گئے ۔ البدر جلد نمبر ۳ مورخه ۱۴ نومبر ۱۹۰۲ صفحه (۱۸) تلاش کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تیسری صدی تک کل اہل اسلام کا یہی مذہب رہا کہ کل نبی فوت ہو گئے ہیں چنانچہ صحابہ کرام کا بھی یہی مذہب تھا جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی صحابہ کا اجماع ہوا۔ حضرت عمر وفات کے منکر تھے اور وہ آپ کو زندہ ہی مانتے تھے، آخر ابو بکر نے آکر : مَا مُحَمَّد إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کی آیت سنائی تو حضرت عمر اور دیگر صحابہ کو آپ کی موت کا یقین آیا اور اگر صحابہ کرام کا یہ عقیدہ ہوتا کہ کوئی نبی زندہ ہے تو سب اٹھ کر ابو بکر کی خبر لیتے کہ ہمارا عقیدہ مسیح کی نسبت ہے کہ وہ زندہ ہے تو کیسے کہتا ہے کہ سب نبی فوت ہو گئے ؟ اور کیا وجہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نہ ہوں اگر بعض مرتے اور بعض زندہ ہوتے تو کسی قسم کا افسوس نہ ہوتا مگر غریب سے لے کر امیر تک سب البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۱۸ مارچ ۱۹۰۴ء صفحه (۶) مرتے ہیں پھر مسیح کو کیسے زندہ مانا جاوے۔ قرآن شریف کے صریح الفاظ سے یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ خدا تعالیٰ نے قتل نبی حرام کیا ہو بلکہ