تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 240
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۰ سورة ال عمران کو معلوم ہے کہ یہ آیت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اُس دن تمام صحابہ کو مسجد نبوی میں پڑھ کر سنائی تھی جس دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی اور وہ پیر کا دن تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابھی دفن نہیں کئے گئے تھے اور عائشہ صدیقہ کے گھر میں آپ کی میت مطہر تھی کہ شدت درد فراق کی وجہ سے بعض صحابہ کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت میں فوت نہیں ہوئے بلکہ غائب ہو گئے ہیں اور پھر دنیا میں آئیں گے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس فتنہ کو خطرناک سمجھ کر اُسی وقت تمام صحابہ کو جمع کیا اور اتفاق حسنہ سے اُس دن گل صحابہ رضی اللہ عنہم مدینہ میں موجود تھے تب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور فرمایا کہ میں نے سنا ہے کہ بعض ہمارے دوست ایسا ایسا خیال کرتے ہیں مگر سچ بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اور ہمارے لئے یہ کوئی خاص حادثہ نہیں ہے۔اس سے پہلے کوئی نبی نہیں گزرا جو فوت نہیں ہوا پھر حضرت ابوبکر نے یہ آیت پڑھی: ما مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف انسان رسول تھے خدا تو نہیں تھے۔سو جیسے پہلے اس سے سب رسول فوت ہو چکے ہیں آپ بھی فوت ہو گئے۔تب اس آیت کو ٹن کر تمام صحابہ چشم پر آب ہو گئے اور انا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ پڑھا اور اس آیت نے اُن کے دلوں میں ایسی تاثیر کی کہ گویا اُسی روز نازل ہوئی تھی۔چنانچہ بعد اس کے حستان بن ثابت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ مرثیہ بنایا: كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَبِى عَلَيْكَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ یعنی تو میری آنکھوں کی پتلی تھا۔میں تو تیری موت سے اندھا ہو گیا۔اب بعد اس کے جو چاہے مرے مجھے تو تیرے ہی مرنے کا خوف تھا۔اس شعر میں حسان بن ثابت نے تمام نبیوں کی موت کی طرف اشارہ کیا ہے گویا وہ کہتا ہے کہ ہمیں اس کی کیا پروا ہے کہ موسیٰ مرگیا ہو یا عیسی مرگیا ہو۔ہمارا ما تم تو اس نبی محبوب کے لئے ہے جو آج ہم سے علیحدہ ہو گیا اور آج ہماری آنکھوں سے پوشیدہ ہو گیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ اس غلط عقیدہ میں بھی مبتلا تھے کہ گویا حضرت عیسی دوبارہ دنیا میں آئیں گے مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آیت : قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ پیش کر کے یہ غلطی دور کر دی اور اسلام میں یہ پہلا اجماع تھا کہ سب نبی فوت ہو چکے ہیں۔