تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 240 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 240

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الد ۔ سورة ال عمران کو معلوم ہے کہ یہ آیت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اُس دن تمام صحابہ کو مسجد نبوی میں پڑھ کر سنائی تھی جس دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی اور وہ پیر کا دن تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابھی دفن نہیں کئے گئے تھے اور عائشہ صدیقہ کے گھر میں آپ کی میت مطہر تھی کہ شدت درد فراق کی وجہ سے بعض صحابہ کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت میں فوت نہیں ہوئے بلکہ غائب ہو گئے ہیں اور پھر دنیا میں آئیں گے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس فتنہ کو خطرناک سمجھ کر اُسی وقت تمام صحابہ کو جمع کیا اور اتفاق حسنہ سے اُس دن گل صحابہ رضی اللہ دن گل صحابہ رضی اللہ عنہم مدینہ میں موجود تھے تب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور فرمایا کہ میں نے سنا ہے کہ بعض ہمارے دوست ایسا ایسا خیال کرتے ہیں مگر سچ بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اور ہمارے لئے یہ کوئی خاص حادثہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے کوئی نبی نہیں گزرا جو فوت نہیں ہوا پھر حضرت ابو بکر نے یہ آیت پڑھی: ما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف انسان رسول تھے خدا تو نہیں تھے۔ سو جیسے پہلے اس سے سب رسول فوت ہو چکے ہیں آپ بھی فوت ہو گئے ۔ تب اس آیت کوشن کر تمام صحابہ چشم پر آب ہو گئے اور انا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھا اور اس آیت نے اُن کے دلوں میں ایسی تاثیر کی کہ گویا اُسی روز نازل ہوئی تھی۔ چنانچہ بعد اس کے حسّان بن ثابت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ مرثیہ بنایا: ه كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِي عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ یعنی تو میری آنکھوں کی پتلی تھا۔ میں تو تیری موت سے اندھا ہو گیا۔اب بعد اس کے جو چاہے مرے مجھے تو تیرے ہی مرنے کا خوف تھا۔ اس شعر میں حسان بن ثابت نے تمام نبیوں کی موت کی طرف اشارہ کیا ہے گویا وہ کہتا ہے کہ ہمیں اس کی کیا پروا ہے کہ موسیٰ مر گیا ہو یا عیسی مر گیا ہو۔ ہمارا ماتم تو اس نبی محبوب کے لئے ہے جو آج ہم سے علیحدہ ہو گیا اور آج ہماری آنکھوں سے پوشیدہ ہو گیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ اس غلط عقیدہ میں بھی مبتلا تھے کہ گویا حضرت عیسیٰ دوبارہ دنیا میں آئیں گے مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آیت : قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ پیش کر کے یہ غلطی دور کر دی اور اسلام میں یہ پہلا اجماع تھا کہ سب نبی فوت ہو چکے ہیں ۔