تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 8
سورة ال عمران تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الہام دنیا میں پھیلاتا رہا اور جھوٹے طور پر خدا کا مقرب اور خدا کا ماموراور خدا کافرستادہ اپنا نام رکھا اور اس کی تائید میں سالہائے دراز تک اپنی طرف سے الہامات تراش کر مشہور کرتا رہا اور پھر وہ با وجود ان مجرمانہ حرکات کے پکڑا نہ گیا۔کیا امید کی جاتی ہے کہ کوئی ہمارا مخالف اس سوال کا جواب دے سکتا ہے؟ ہر گز نہیں ! ان کے دل جانتے ہیں کہ وہ ان سوالات کے جواب دینے سے عاجز ہیں مگر پھر بھی انکار سے باز نہیں آتے بلکہ بہت سے دلائل سے اُن پر حجت وارد ہو گئی مگر وہ خواب غفلت میں سورہے ہیں۔البدر جلد ۲، نمبر ۴۸ ، مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۸۳،۳۸۲) پیشگوئی میں کسی قدر اخفاء اور متشابہات کا ہونا بھی ضروری ہے اور یہی ہمیشہ سے سنت الہی ہے۔ملا کی نبی اگر اپنی پیشگوئی میں صاف لکھ دیتا کہ الیاس خود نہ آئے گا بلکہ اس کا مثیل ، تو حضرت عیسی کے ماننے میں اس قدر وقتیں اس زمانہ کے علماء کو پیش نہ آتیں۔ایسا ہی اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو پیشگوئیاں تو ریت اور انجیل میں ہیں وہ نہایت ظاہر الفاظ میں ہوتیں کہ آنے والا نبی آخر زمان، اسماعیل کی توریت اولاد میں سے ہوگا اور شہر مکہ میں ہوگا تو پھر یہودیوں کو آپ کے ماننے سے کوئی انکار نہ ہو سکتا تھا لیکن خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے کہ ان میں متقی کون ہے جو صداقت کو اس کے نشانات سے دیکھ کر پہچانتا اور اُس پر ایمان لاتا ہے۔( بدر جلد ۶ نمبر ۲۰ مورخه ۱۶ رمئی ۱۹۰۷ صفحه ۳) رَبَّنَا لا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ انتَ الْوَهَّابُ اے ہمارے خدا! ہمارے دل کو لغزش سے بچا اور بعد اس کے جو تو نے ہدایت دی ہمیں پھسلنے سے محفوظ رکھ اور اپنے پاس سے ہمیں رحمت عنایت کر کیونکہ ہر ایک رحمت کو تو ہی بخشتا ہے۔( تذكرة الشهادتين ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۲۷) ربَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمِ لَا رَيْبَ فِيْهِ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَة خدا تخلف وعدہ نہیں کرے گا۔(براہین احمدیہ ہر چہار حص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۵۵ حاشیہ نمبر ۱۱) وعدہ سے مراد وہ امر ہے جو علم الہی میں بطور وعدہ قرار پاچکا ہے نہ وہ امر جو انسان اپنے خیال کے مطابق اس