تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 228

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۸ سورة ال عمران طرف سے بیعت کرنے میں کچھ توقف اور تر ڈر بھی ہوا تھا گو کچھ دنوں کے بعد بیعت کر لی اور اس ابتلا میں خود حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی مبتلا ہو گئے تھے لیکن گزشتہ انبیاء کی موت پر کسی صحابی کو بعد سننے صدیقی خطبہ کے کوئی ابتلا پیش نہیں آیا اور نہ ماننے میں کچھ بھی توقف اور تر و دکیا بلکہ سنتے ہی مان گئے۔لہذا اسلام میں یہ وہ پہلا اجماع ہے جو بلا توقف انشراح صدر کے ساتھ ہوا۔خلاصہ کلام یہ کہ بے شک نصوص صریحہ کے رُو سے ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا تمام گزشتہ انبیاء علیہم السلام کی موت پر جس میں حضرت مسیح بھی داخل ہیں اجماع ہو گیا تھا بلکہ حضرت مسیح اس اجماع کا پہلا نشانہ تھے۔اب ذیل میں نصوص حدیثیہ کے رُو سے ثبوت لکھتا ہوں تا معلوم ہو کہ ہم دونوں میں سے کون شخص خدا تعالی سے خوف کر کے بیچ پر قائم ہے اور کون شخص دلیری سے جھوٹ بولتا اور نصوص صریحہ کو چھوڑتا ہے۔واضح ہو کہ اس بارے میں صحیح بخاری میں جو اصح الکتب کہلاتی ہے مندرجہ ذیل عبارتیں ہیں۔عرج عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ وَعُمَرُ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَقَالَ اجْلِسُ يَا عُمَرُ فَأَبِي عُمَرُ أَنْ تَجْلِسَ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ وَتَرَكُوا عُمَرَ فَقَالَ أَبُو بَكْرِ اَمَّا بَعْدُ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ عَن لَّا يَمُوتُ قَالَ اللهُ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ إِلَى الشَّاكِرِينَ۔وَقَالَ وَاللهِ كَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللهَ انْزَلَ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى تَلَاهَا أَبُو بَكْرٍ فَتَلَقَّاهَا مِنْهُ النَّاسُ كُلُّهُمْ فَمَا أَسْمَعُ بَشَرًا مِنَ النَّاسِ إِلَّا يَتْلُوهَا۔۔۔۔إِنَّ عُمَرَ قَالَ وَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَن سَمِعْتُ أَبَابَكْرٍ تَلَاهَا فَعُقِرْتُ حَتَّى مَا يَقِلُنِى رِجُلا وَحَتَّى أَهْوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ حَتَّى سَمِعْتُهُ تَلَاهَا أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مات۔یعنی ابن عباس سے روایت ہے کہ ابوبکر نکلا ( یعنی بروز وفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) اور عمر لوگوں سے کچھ باتیں کر رہا تھا ( یعنی کہہ رہا تھا کہ آنحضرت فوت نہیں ہوئے بلکہ زندہ ہیں ) پس ابوبکر نے کہا کہ اے عمر! بیٹھ جا مگر عمر نے بیٹھنے سے انکار کیا۔پس لوگ ابوبکر کی طرف متوجہ ہو گئے اور عمر کو چھوڑ دیا پس ابو بکر نے کہا کہ بعد حمد و صلوۃ واضح ہو کہ جو شخص تم میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرتا ہے اس کو معلوم ہو کہ حمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) فوت ہو گیا اور جو شخص تم میں سے خدا کی پرستش کرتا ہے تو خدا زندہ ہے جو نہیں مرے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر دلیل یہ ہے کہ خدا نے فرمایا ہے کہ محمد صرف ایک رسول ہے اور اس سے پہلے تمام رسول اس دنیا سے گزر چکے ہیں یعنی مر چکے ہیں اور حضرت ابوبکر نے