تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 223

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۳ سورة ال عمران چھ سو برس سے آسمان پر زندہ بیٹھا ہے۔ ہرگز ! ہرگز ! محبت نبوی فتوی نہیں دیتی کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت با تخصیص ایسی فضیلت قائم کرتے۔ لعنت ہے ایسے اعتقاد پر جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین لازم آوے ۔ وہ لوگ تو عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ وہ تو اس بات کے سُننے سے زندہ ہی مرجاتے کہ اُن کا پیارا رسول فوت ہو گیا مگر عیسی آسمان پر زندہ بیٹھا ہے۔ وہ رسول نہ اُن کو بلکہ خدا تعالیٰ کو بھی تمام نبیوں سے زیادہ پیارا تھا۔ اسی وجہ سے جب عیسائیوں نے اپنی بدقسمتی سے اس رسول مقبول کو قبول نہ کیا اور اُس کو اتنا اُڑایا کہ خدا بنا دیا تو خدا تعالیٰ کی غیرت نے تقاضا کیا کہ ایک غلام غلمان محمدی سے یعنی یہ عاجز اس کا مثیل کر کے اس اُمت میں سے پیدا کیا اور اس کی نسبت اپنے فضل اور انعام کا زیادہ اُس کو حصہ دیا تا عیسائیوں کو معلوم ہو کہ تمام فضل خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ ( تذکرۃ الشہادتین ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۳، ۲۴) ( عبد الحق غزنوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر الزام لگایا تھا کہ آپ نے نعوذ باللہ ! جھوٹ بولا ہے ) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جو فوت نہیں ہو گیا ۔۔۔۔۔ قرآن شریف میں فقط قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ موجود ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پیغمبر گزرے۔ ( آپ نے فرمایا: ) کیا گزرنا بجز مرنے کے کوئی اور چیز بھی ہے۔ جو شخص دنیا سے گزر گیا، اُسی کو تو کہتے ہیں کہ مر گیا۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں : م پدر چوں دور عمرش منقضی گشت مرا این یک نصیحت داد و بگذشت اب بتلاؤ کہ بگذشت کے اس جگہ کیا معنی ہیں کیا یہ کہ شیخ سعدی علیہ الرحمہ کا باپ زندہ بجسم عنصری آسمان پر چلا گیا تھا یا یہ کہ مر گیا تھا ۔ اے عزیز ! کیا ان تاویلات رکیکہ سے ثابت ہو جائے گا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے۔ تمام دنیا کا یہ محاورہ ہے کہ جب مثلاً کہا جائے کہ فلاں بیمار گزر گیا تو کوئی بھی یہ معنے نہیں کرتا کہ وہ آسمان پر مع جسم عنصری چڑھ گیا اور عربی میں بھی گزرنا بمعنی مرنا ایک قدیم محاورہ ہے چنانچہ ایک فاضل کی نسبت جو کسی کتاب کو تالیف کرنا چاہتا تھا اور قبل از تالیف مر گیا کسی کا یہ پرانا شعر ہے وَلَمْ يَتَّفِقُ حَتَّى مَضَى بِسَبِيْلِهِ وَكَمْ حَسَرَاتٍ فِي بُطُونِ الْمَقَابِرِ