تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 222
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۲۲ سورة ال عمران یعنی تواے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! میری آنکھوں کی پتلی تھا۔میں تو تیری جدائی سے اندھا ہو گیا۔اب جو چاہے مرے، عیسی ہو یا موسیٰ۔مجھے تو تیری ہی موت کا دھڑ کا تھا۔یعنی تیرے مرنے کے ساتھ ہم نے یقین کر لیا کہ دوسرے تمام نبی مرگئے ہمیں اُن کی کچھ پروا نہیں۔مصرعہ عجب تھا عشق اس دل میں محبت ہو تو ایسی ہو اعجاز احمدی ضمیمه نزول مسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۲۶، ۱۲۷) اسلام میں پہلا اجماع یہی تھا کہ کوئی نبی گزشتہ نبیوں میں سے زندہ نہیں ہے۔جیسا کہ آیت: مَا مُحَمَّد إلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ سے ثابت ہے۔خدا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بہت بہت اجر دے جو اس اجماع کے موجب ہوئے اور ممبر پر چڑھ کر اس آیت کو پڑھ سنایا۔(لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۴۶ ۲۴۷) کیوں یہ نہیں سوچتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر بھی بعض صحابہ کو یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ دنیا میں آئیں گے مگر حضرت ابو بکر نے یہ آیت پڑھ کر کہ: مَا مُحَمَّدٌ الا رَسُول قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ اس خیال کو رفع دفع کر دیا اور اس آیت کے یہ معنے سمجھائے کہ کوئی نبی نہیں جو فوت نہیں ہو چکا پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی فوت ہو جا ئیں تو کوئی افسوس کی جگہ نہیں یہ امر سب کے لئے مشترک ہے۔ظاہر ہے کہ اگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے دلوں میں یہ خیال ہوتا کہ عیسی آسمان پر چھ سو برس سے زندہ بیٹھا ہے تو وہ ضرور حضرت ابوبکر کے آگے یہ خیال پیش کرتے لیکن اس روز سب نے مان لیا کہ سب نبی مر چکے ہیں اور اگر کسی کے دل میں یہ خیال بھی تھا کہ عیسی زندہ ہے تو اُس نے اس خیال کو ایک رڈی چیز کی طرح اپنے دل سے باہر پھینک دیا۔یہ میں نے اس لئے کہا کہ ممکن ہے کہ عیسائی مذہب کے قرب و جوار کے اثر کی وجہ سے کوئی ایسا شخص جو نبی ہو اور جس کی درایت صحیح نہ ہو یہ خیال رکھتا ہو کہ شاید عیسی اب تک زندہ ہی ہے مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ اس وعظ صدیقی کے بعد کل صحابہ اس بات پر متفق ہو گئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے جتنے نبی تھے سب مر چکے ہیں اور یہ پہلا اجماع تھا جو صحابہ میں ہوا۔اور صحابہ رضی اللہ عنہم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں محو تھے کیوں کر اس بات کو قبول کر سکتے تھے کہ باوجودیکہ ان کے بزرگ نبی نے جو تمام نبیوں کا سردار ہے چوسٹھ برس کی بھی پوری عمر نہ پائی۔مگر فیسٹی