تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 221

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۱ سورة ال عمران کی غرض سے پڑھی تھی کہ تمام گزشتہ انبیاء فوت ہو چکے ہیں اور اس پر تمام صحابہ کا اجماع ہو گیا تھا۔اربعین، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۷۴) آیت : مَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ میں سب نبیوں کی وفات ایک مشترک لفظ میں جو خکت ہے خدا نے ظاہر کی تھی اور حضرت عیسی کے لئے کوئی خاص لفظ استعمال نہیں فرمایا تھا۔یہ بھی نعوذ باللہ ! آپ لوگوں کے نزدیک خدا کا ایک جھوٹھ ہے۔یہ وہی آیت ہے جس کے پڑھنے سے حضرت ابوبکر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ثابت کی تھی۔ابوبکر کی بھی یہ منطق خوب تھی کہ با وجود یکه عیسی آسمان پر زندہ بیٹھا ہے پھر وہ لوگوں کے سامنے یہ آیت پڑھتا ہے یہ کس قسم کی تسلی دیتا قسم کی ہے۔کیا اس کو معلوم نہیں کہ عیسی تو زندہ آسمان پر بیٹھا ہے اور پھر دوبارہ آئے گا اور چالیس برس رہے گا۔عیسی کی وہ عمر اور افضل الرسل کی یہ عمر : تِلكَ إِذَا قِسْمَةٌ ضِيْزى (النجم : ٢٣) - اور صحابہ بھی خوب سمجھ کے آدمی تھے جو اس آیت کے سننے سے ساکت ہو گئے اور کسی نے ابو بکر کو جواب نہ دیا کہ حضرت آپ یہ کیسی آیت پڑھ رہے ہیں جو اور بھی ہمیں حسرت دلاتی ہے عیسی تو آسمان پر زندہ اور پھر آنے والا اور ہمارا پیارا نبی ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا۔اگر عیسی اس قانون قدرت سے باہر اور ہزار ہا برس کی عمر پانے والا اور پھر آنے والا ہے تو ہمارے نبی کو یہ نعمت کیوں عطا نہ ہوئی اور سچ تو یہ ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور تمام صحابہ نے جو اُس وقت تمام حاضر تھے اُن میں سے ایک بھی غائب نہ تھا۔اس آیت کے یہی معنے سمجھے تھے کہ تمام انبیاء فوت ہو چکے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ بعض ایک دو کم سمجھ صحابہ کو جن کی درایت عمدہ نہیں تھی۔عیسائیوں کے اقوال من کر جو ارد گرد رہتے تھے پہلے کچھ یہ خیال تھا کہ میسی آسمان پر زندہ ہے جیسا کہ ابو ہریرہ جو غیبی تھا اور درایت اچھی نہیں رکھتا تھا لیکن جب حضرت ابو بکر نے جن کو خدا نے علم قرآن عطا کیا تھا یہ آیت پڑھی تو سب صحابہ پر موت جمیع انبیاء ثابت ہو گئی اور وہ اس آیت سے بہت خوش ہوئے اور اُن کا وہ صدمہ جو اُن کے پیارے نبی کی موت کا اُن کے دل پر تھا جاتا رہا اور مدینہ کی گلیوں کوچوں میں یہ آیت پڑھتے پھرے۔اس تقریب پرحسان بن ثابت نے مرثیہ کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی میں یہ شعر بھی بنائے۔شعر كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِي عَلَيْكَ النَّاظِرُ منْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ