تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 220

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۰ سورة ال عمران آپ نے اس آیت کو پڑھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خیالات کا رد کیا کیا ؟ کیا آپ کے کان بہرے ہیں؟ کیا آپ سنتے نہیں کہ عمر بلند آواز سے کیا کہہ رہا ہے؟ حضرت وہ تو یہ کہہ رہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرے نہیں زندہ ہیں اور پھر دنیا میں آئیں گے اور منافقوں کو قتل کریں گے اور وہ آسمان کی طرف ایسا ہی زندہ اٹھائے گئے ہیں جیسے کہ عیسی بن مریم اٹھایا گیا تھا ، آپ نے آیت تو پڑھ لی مگر اس آیت میں اس خیال کارڈ کہاں ہے۔ لیکن صحابہ جو عقلمند اور زیرک اور پاک نبی کے ہاتھ سے صاف کئے گئے تھے اور عربی تو اُن کی مادری زبان تھی اور کوئی تعصب درمیان نہ تھا۔ اس لئے انہوں نے آیت موصوفہ بالا کے سُنتے ہی سمجھ لیا کہ خلت کے معنے موت ہیں جیسا کہ خود خدا تعالیٰ نے فقرہ : آفَابِنُ مَاتَ أَوْ قُتِلَ میں تشریح کر دی ہے اس لئے انہوں نے بلا توقف اپنے خیالات سے رجوع کر لیا اور ذوق میں آکر اور آنحضرت کے فراق کے درد سے بھر کر بعض نے اس مضمون کو ادا کرنے کے لئے شعر بھی بنائے جیسا کہ حسان بن ثابت نے بطور مرثیہ یہ دو بیت کہے ه كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِي عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ یعنی اے میرے پیارے نبی ! تو تو میری آنکھوں کی پتلی تھی اور میرے دیدوں کا نور تھا۔ پس میں تو تیرے مرنے سے اندھا ہو گیا اب تیرے بعد میں دوسروں کی موت کا کیا غم کروں عیسی مرے یا موسیٰ مرے، کوئی مرے مجھے تو تیرا ہی غم تھا۔ دیکھو عشق محبت اسے کہتے ہیں جب صحابہ کو معلوم ہو گیا کہ وہ نبی افضل الانبیاء جن کی زندگی کی اشد ضرورت تھی عمر طبعی سے پہلے ہی فوت ہو گئے تو وہ اس کلمہ سے سخت بیزار ہو گئے کہ آنحضرت تو مر جائیں مگر کسی دوسرے کو زندہ رسول کہا جائے۔ (تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۹۳، ۹۴) یہ آیت که : مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ بلند آواز سے شہادت دے رہی ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو چکے ہیں کیونکہ یہ آیت وہ عظیم الشان آیت ہے جس پر ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ رضی اللہ عنہم نے اجماع کر کے اقرار کیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سب نبی فوت ہو چکے ہیں ۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۱۰) یہ وہ آیت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس استدلال