تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 219
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۱۹ سورة ال عمران كَثِيرًا مِّنَ الْآيَاتِ أَتَكْفُرُ بِالْقُرْآنِ أَو نہیں کرتا حالانکہ ہم نے تجھے کئی آیات سنائی ہیں کیا تو قرآن کریم کا انکار کرتا ہے یا یوم جزا کو بھول گیا ہے۔نَسِيْتَ يَوْمَ الْمَجَازَاتِ الهدی ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۶۵) ( ترجمه از مرتب) ان سب کے بعد وہ عظیم الشان آیت ہے جس پر تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہوا اور ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ نے اس بات کو مان لیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور کل گزشتہ نبی فوت ہو چکے ہیں اور وہ یہ آیت ہے : وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُم عَلَى أَعْقَابِكُمُ۔اس جگہ خلت کے معنے خدا تعالیٰ نے آپ فرما دیجئے کہ موت یا قتل۔پھر اس کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے محلِ استدلال میں جمیع انبیاء گزشتہ کی موت پر اس آیت کو پیش کر کے اور صحابہ نے ترک مقابلہ اور تسلیم کا طریق اختیار کر کے ثابت کر دیا کہ یہ آیت موت مسیح اور تمام گزشتہ انبیاء علیہم السلام پر قطعی دلیل ہے اور اس پر تمام اصحاب رضی اللہ عنہم کا اجماع ہو گیا، ایک فرد بھی باہر نہ رہا جیسا کہ میں نے اس بات کو مفصل طور پر رسالہ تحفہ غزنویہ میں لکھ دیا ہے پھر اس کے بعد تیرہ سو برس تک کبھی کسی مجتہد اور مقبول امام پیشوائے انام نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ حضرت مسیح زندہ ہیں بلکہ امام مالک نے صاف شہادت دی کہ فوت ہو گئے ہیں اور امام ابن حزم نے صاف شہادت دی کہ فوت ہو گئے ہیں اور تمام کامل مکمل ملہمین میں سے کبھی کسی نے یہ الہام نہ بنایا کہ خدا کا یہ کلام میرے پر نازل ہوا ہے کہ عیسی بن مریم برخلاف تمام نبیوں کے زندہ آسمان پر موجود ہے۔الغرض جبکہ میں نے نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ اور اقوال ائمہ اربعہ اور وحی اولیاء امت محمدیہ اور اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم میں بجز موت مسیح کے اور کچھ نہ پایا تو بنظر تکمیل لوازم تقویٰ انبیاء سابقین علیہم السلام کے قصص کی طرف دیکھا کہ کیا قرون گزشتہ میں اس کی کوئی نظیر بھی موجود ہے کہ کوئی آسمان پر چلا گیا ہو اور دوبارہ واپس آیا ہو تو معلوم ہوا کہ حضرت آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی نظیر نہیں۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۹۱، ۹۲) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ پر کسی نے اعتراض نہ کیا کہ قرآن میں کیوں تحریف کرتے ہو تمام گزشتہ انبیاء کہاں فوت ہوئے ہیں اور اگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اُس وقت عذر کرتے کہ نہیں صاحب میر انشاء تمام انبیاء کا فوت ہونا تو نہیں ہے میں تو بدل اس پر ایمان رکھتا ہوں کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ بجسمه العصری آسمان پر چڑھ گئے ہیں اور کسی وقت اُتریں گے تو صحابہ جواب دیتے کہ اگر آپ کا یہی اعتقاد ہے تو پھر