تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 218
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۸ سورة ال عمران آیت قابلِ استدلال نہیں رہتی کیونکہ ایک نا تمام دلیل جو ایک قاعدہ کلیہ کی طرح نہیں اور تمام افراد گزشتہ پر دائرہ کی طرح محیط نہیں وہ دلیل کے نام سے موسوم نہیں ہو سکتی۔پھر اُس سے حضرت ابوبکر کا استدلال لغو ٹھہرتا ہے اور یادر ہے کہ یہ دلیل جو حضرت ابوبکر نے تمام گزشتہ نبیوں کی وفات پر پیش کی کسی صحابی سے اس کا انکار مروی نہیں حالانکہ اُس وقت سب صحابی موجود تھے اور سب سن کر خاموش ہو گئے۔اس سے ثابت ہے کہ اس پر صحابہ کا اجماع ہو گیا تھا اور صحابہ کا اجماع حجنت ہے جو کبھی ضلالت پر نہیں ہوتا۔سوحضرت ابوبکر کے احسانات میں سے جو اس اُمت پر ہیں ایک یہ بھی احسان ہے کہ انہوں نے اس غلطی سے بچنے کے لئے جو آئیندہ زمانہ کے لئے پیش آنے والی تھی اپنی خلافت حقہ کے زمانہ میں سچائی اور حق کا دروازہ کھول دیا اور ضلالت کے سیلاب پر ایک ایسا مضبوط بند لگا دیا کہ اگر اس زمانہ کے مولویوں کے ساتھ تمام جنیات بھی شامل ہو جا ئیں تب بھی وہ اس بند کوتو ڑ نہیں سکتے۔سو ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ حضرت ابوبکر کی جان پر ہزاروں رحمتیں نازل کرے جنہوں نے خدا تعالیٰ سے پاک الہام پا کر اس بات کا فیصلہ کر دیا کہ مسیح فوت ہو گیا ہے۔( تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۶۱، ۴۶۲ حاشیه ) تمام صحابہ کا اُن کی موت پر اجماع ہو گیا اور اگر اجماع نہیں ہوا تھا تو ذرہ بیان تو کرو کہ جب حضرت عمر کے غلط خیال پر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے اور پھر دوبارہ دنیا میں آئیں گے حضرت ابوبکر نے یہ آیت پیش کی کہ مَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ تو حضرت ابوبکر نے کیا سمجھ کر یہ آیت پیش کی تھی اور کون سا استدلال مطلوب تھا جو مناسب محل بھی تھا اور صحابہ نے اس کے معنے کیا سمجھے تھے اور کیوں مخالفت نہیں کی تھی اور کیوں اس جگہ لکھا ہے کہ جب یہ آیت صحابہ نے سنی تو اپنے خیالات سے رجوع کرلیا ؟ تحفہ غزنویہ، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۴۲) ألا تُفَكَّرُ فى قَوْلِهِ عَزَّ اسْمه وَمَا اے مخاطب ! کیا تو خدا تعالی کے قول : وَمَا مُحمد مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ پر غور نہیں أَوْ عَلى قَلْبِكَ الْقُفْلُ وَقَدِ انْعَقَدَ الْإِجْمَاعُ کرتا یا تیرے دل پر قفل لگا ہوا ہے اور سب سے پہلے عَلَيْهِ قَبْلَ كُلِّ إِجْمَاعِ مِّنَ الصَّحَابَةِ وَ رَجَعَ صحابہ کرام کا اس بات پر اجماع ہوا تھا اور حضرت عمر الْفَارُوقُ مِنْ قَوْلِهِ بَعْدَ سِماعِ هَذِهِ الْآيَةِ فاروق نے اس آیت کو سن کر اپنے قول سے رجوع کر فَمَا لَكَ لَا تَرْجِعُ مِنْ قَوْلِكَ وَقَدْ قَرَأَنَا عَلَيْكَ لیا تھا پھر تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو اپنی بات سے رجوع مُحَمَّدٌ