تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 217 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 217

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۱۷ سورة ال عمران الْمَحَبَّةِ وَآثَارُهَا أَيُّهَا الْمُجَادِلُونَ وَ مجھے تو سارا یہی ڈر تھا کہ کہیں تو نہ مرجائے لیکن جبکہ تو ہی مر گیا انْظُرُوا كَيْفَ اقْتَضَتْ غَرَهُمْ أَنهم تو اب مجھے کچھ پرواہ نہیں کہ موسیٰ مرے یا عیسی مرے۔مَا رَضُوا بِحَيَاةِ نَبِي بَعْدَ مَوْتِ رَسُولِ اب غور کرو کہ وہ اپنے نبی کو کس قدر دوست رکھتے تھے اور اللهِ، فَهُدُوا إِلَى القِرَاطِ كَمَا يُهْدَى کس طرح محبت کے آداب اور نشان ان سے ظاہر ہوتے الْعَاشِقُونَ وَاجْتَمَعَتْ قُلُوبُهُمْ عَلی تھے اور یہ بھی غور کرو کہ ان کی غیرت نے ہرگز نہ چاہا کہ مَفْهُوْمِ آيَةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے بعد کسی نبی کی حیات امَنُوا بِهِ وَكَانُوا بِهِ يَسْتَبْشِرُونَ پر راضی ہو جائیں پس خدا نے ان کو اسی طرح سے حق کی راہ (خطبہ الہامی، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۲۲۸ تا ۲۳۳) دکھلائی جس طرح سے عاشقوں کو دکھلاتا ہے اور ان کے دلوں ني قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ کی آیت کے مفہوم پر اتفاق کرلیا اور اس پر ایمان لائے اور اس پر خوش ہوئے۔( ترجمہ اصل کتاب سے ) قَد جَرَتْ سُنَّةُ أَهْلِ اللَّسَانِ في لفظ خلا کے بارہ میں اہل زبان کا یہ طریق ہے کہ جب لفظ خَلَا أَنَّهُمْ إِذَا قَالُوا مَثَلًا خَلَا وہ یہ نہیں کہ خَلا زَيْلٌ مِنْ هَذِهِ النَّارِ أَوْ مِنْ هَذِهِ : زَيْلٌ مِنْ هَذِهِ النَّارِ أَوْ مِنْ هَذِهِ الدُّنْيَا الدُّنْيَا (یعنی زید اس گھر سے یا اس دنیا سے چلا گیا ) تو اس فَيُرِيدُونَ مِنْ هَذَا الْقَوْلِ انَّهُ لَا يَرْجِعُ قول سے ان کی یہ مراد ہوتی ہے کہ وہ اس کی طرف کبھی واپس إلَيْهَا أَبَدًا وَمَا اختار الله هذا اللفظ نہیں آئے گا اور اس لفظ کو خدا تعالیٰ نے اسی لیے اختیار کیا إِلَّا إِشَارَةً إلى هذِهِ الْمُحَاوَرَةِ كَمَا لَا ہے تا اہل زبان کے اس استعمال کی طرف اشارہ فرمائے جیسا کہ ظاہر ہے۔(ترجمہ از مرتب) يخفى (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۲۲۸ حاشیه ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اس آیت سے استدلال کرنا کہ : مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ صاف دلالت کرتا ہے کہ اُن کے نزدیک حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے تھے کیونکہ اگر اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ پہلے نبیوں میں سے بعض نبی تو جناب خاتم الانبیاء کے عہد سے پیشتر فوت ہو گئے ہیں مگر بعض اُن میں سے زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک فوت نہیں ہوئے تو اس صورت میں یہ