تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 215

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۵ سورة ال عمران الْمُبَارَكِ أَشَدُّ وَأَزْيَدُ مِنْ حَاجَتِهِمْ إِلى مسلمانوں کو آپ کے وجود مبارک کی جو ضرورت ہے وہ ا وُجُودِ الْمَسِيحِ لَكِنَّهُمْ مَّا رَدُّوا عَلَى حضرت مسیح علیہ السلام کے وجود سے زیادہ شدید اور اہم الصِّدِّيقِ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ، بَلْ سَكَتُوا ہے لیکن انہوں نے اس قسم کے الفاظ کہہ کر حضرت ابو بکر كُلُّهُمْ وَ نَبَذُوا مِنْ أَيْدِيهِمْ سِهَامَ کو جواب نہیں دیا بلکہ سب کے سب خاموش رہے اور اپنے الْإِنْكَارِ، وَقَبِلُوا قَوْلَهُ، وَبَكَوْا وَقَالُوا إِنَّا ہاتھوں سے انکار کے تیروں کو پھینک دیا اور آپ کی بات کو لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ وَ نَظَرُوا إِلى مَوْتِ قبول کر لیا اور رو پڑے اور انہوں نے کہا تو یہی کہ انا الله الْأَنْبِيَاءِ كُلِهِمْ وَ اطْمَأَتُوا بِهَا، فَإِنَّهُمْ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اس طرح انہیں تمام انبیاء کی موت پر مَاتُوا كُلُّهُمْ وَ مَا كَانَ أَحَدٌ مِنْهُم مِن یقین آگیا اور وہ اس بات پر مطمئن ہو گئے کہ سب کے الْخَالِدِينَ سب نبی فوت ہو گئے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی ہمیشہ (حمامة البشری، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۴۶،۲۴۵) زندہ رہنے والا نہیں ۔ ( ترجمہ از مرتب ) خلت کا لفظ جہاں جہاں قرآن شریف میں انسانوں کے لئے استعمال ہوا ہے موت کے معنوں پر استعمال ہوا ہے۔ لہذا آیت : قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ سے بھی حضرت عیسی کی موت ہی ثابت ہوئی۔ ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۵۴ حاشیه ) قَدْ قَالَ اللهُ سُبْحَانَهُ وَ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا اور خدا فرماتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم رسول ہیں اور رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ - ان سے پہلے رسول گزر چکے ہیں یہ آیت بتاتی ہے کہ سارے فَصَرَّحَ بِأَنَّ الْأَنْبِيَاءَ الَّذِينَ كَانُوا مِنْ اگلے نبی فوت ہو چکے ہیں اسی آیت کو حضرت ابو بکر صدیق قَبْلُ مَاتُوا كُلُّهُمْ وَالْمُرْسَلُونَ۔ وَهَذِهِ نے تمام صحابہ کو سنا یا جب انہوں نے اختلاف کیا یعنی جب ايَةٌ تَلَاهَا أَبُو بَكْرِ الصَّدِيقُ رَضِيَ اللهُ بعض لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وسلم کی موت میں عَنْهُ إِذْ كَانَ الْأَصْحَابُ يَخْتَلِفُونَ أَعْنِی اختلاف کیا اور حضرت عمر نے کہا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ إِذَا اخْتَلَفَ بَعْضُ النَّاسِ مِنَ الصَّحَابَةِ وسلم ) اسی طرح واپس آئیں گے جیسا کہ عیسیٰ واپس آئے گا فِي مَوْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ اور اسی طرح اور بعض خطا کاروں نے بھی کہا تو اس وقت سَلَّمَ، وَقَالَ عُمَرُ إِنَّهُ سَيَرْجِعُ كَمَا يَرْجِعُ حضرت ابوبکر نے ان کا کلام سنا اور ان کے گمان پر آگاہ عِيسَى، وَكَذَالِكَ قَالَ بَعْضُهُمُ الَّذِينَ ہوئے تب منبر پر کھڑے ہوئے اور صحابہ ان کے گرد جمع