تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 214
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ل الد سورة ال عمران أَحَدٌ لَّهُ: أَيُّهَا الرَّجُلُ إِنَّكَ كَذَبْتَ أَوْ اور نہ کسی نے آپ کو کہا کہ اے شخص تو نے جھوٹ بولا ہے أَخْطَأْتَ فِي اسْتِدْلَالِكَ أَوْ ذَكَرْتَ یا اپنے استدلال میں غلطی کی ہے یا تو نے ناقص استدلال اسْتِدْلَالًا نَاقِصًا وَمَا كُنْتَ مِنَ کیا ہے اور تو ان لوگوں میں سے نہیں ہے جن کی رائے الْمُصِيبِينَ۔ درست ہو۔ فَلَوْ كَانُوا مُعْتَقِدِينَ بِأَنَّ عِيسَی اگر ان کا یہ اعتقاد ہوتا کہ حضرت عیسی علیہ السلام ابھی حى إلى إلى ذلِكَ الزَّمَانِ لَرَدُّوا على أَبِي بَكْرٍ، تک زندہ ہیں تو وہ ضرور حضرت ابوبکر کی تردید کرتے اور وَقَالُوا كَيْفَ تَفْهَمُ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ کہتے آپ اس آیت سے تمام انبیاء کے فوت ہو جانے کا مَوْتَ الْأَنْبِيَاءِ كُلُّهُمْ أَلَا تَعْلَمُ أَنَّ مفہوم کیسے نکال رہے ہیں کیا آپ نہیں جانتے کہ عیسی علیہ عِيسَى قَدْ رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ حَيًّا وَيَأْتِي فِي السلام آسمان کی طرف زندہ اٹھائے گئے ہیں اور آخری آخِرِ الزَّمَانِ ؟ فَإِذَا كَانَ عِيسَی رَاجِعًا إِلَى زمانہ میں آپ واپس آئیں گے پس جب حضرت عیسیٰ علیہ الدُّنْيَا مَرَّةً ثَانِيَةً وَ أَنْتَ تُؤْمِنُ بِهِ، فَأَيُّ السلام دنیا میں دوبارہ واپس آنے والے ہیں اور آپ حَرَجٍ وَمُضَايَقَةٍ فِي أَنْ يَأْتِيْنَا رَسُولُنَا اس پر ایمان رکھتے ہیں تو پھر اس بات میں کیا حرج اور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا كَمَا زَعَمَهُ مضائقہ ہے کہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی عُمَرُ الَّذِي يَجْرِي الْحَقُّ عَلى لِسَانِهِ، وَلَهُ واپس تشریف لے آئیں جیسا کہ حضرت عمر دعویٰ کر رہے شَأْنُ عَظِيمُ فِي الرَّأْي الصَّائِبِ، وَلِرَأْيه ہیں جن کی زبان پر حق جاری ہوتا ہے اور رائے کے مُوَافَقَةٌ بِأَحْكَامِ الْقُرْآنِ فِي مَوَاضِعَ، وَمَعَ صائب ہونے میں ان کی بڑی شان ہے اور ان کی رائے ذلِكَ هُوَ مُلْهَمْ وَمِنَ الْمُحَدِّثِينَ وَإِنَّ بہت سی جگہوں میں قرآن کریم کے احکام کے موافق تھی ۔ وَفَاةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پھر وہ مہم بھی تھے اور محدثین میں سے ہیں ہمارے نبی لِلْمُسْلِمِينَ مُصِيبَةٌ مَّا أُصِيبُوا بِمِثْلِهِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات مسلمانوں کے لیے بڑی فَلَيْسَ مِنَ الْعَجَبِ أَنْ يَرْجِعَ نَبِيِّنَا صَلَّی مصیبت تھی ایسی مصیبت جوان پر پہلے کبھی وارد نہیں ہوئی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الدُّنْيَا، بَلْ رَجُوعُه تو کوئی تعجب کی بات نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا إِلَى الدُّنْيَا أَحَقُّ وَأَوْلَى وَأَنْفَعُ مِنْ رَجُوعِ میں واپس آئیں بلکہ آپ دنیا میں آنے کے لیے حضرت مسیح الْمَسِيحِ، وَحَاجَةُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وُجُودِهِ سے زیادہ حق دار اور موزوں اور فائدہ رساں ہیں اور