تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 209
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۹ سورة ال عمران اے مومنو ! مقابلہ سے ہمت مت ہار و اور کچھ اندیشہ مت کرو اور انجام کار غلبہ تمہیں کا ہے اگر تم واقعی طور پر مومن ہو۔ (آسمانی فیصلہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۳۳، ۳۳۴) إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُهُ وَ تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَ يَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاء وَاللهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ ) یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ نشان بھی ہوتے ہیں اور ان میں التباس بھی ہوتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ مانگا گیا تو کہا کہ خدا قادر ہے۔ خواہ آسمان سے نشان دکھلاوے یا بعض کو بعض سے جنگ کرا کر نشان دکھاوے چنانچہ جنگوں میں صحابہ بھی قتل ہوئے۔ بعض کمزور ایمان والوں نے اعتراض کیا کہ اگر یہ عذاب ہے تو ہم میں سے لوگ کیوں مرتے ہیں اس پر خدا تعالیٰ نے فرمایا : إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُهُ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نْدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ الخ پس اگر ہماری جماعت میں سے کوئی بھی نہ مرے اور کل قو میں مرتی رہیں تو کل دنیا ایک ہی دفعہ راہ راست پر آجاوے اور بجز اسلام کے اور کوئی مذہب دنیا پر نہ رہے حتی کہ گورنمنٹوں کو بھی مسلمان ہونا پڑے اور یہی سر تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی فوت ہوئے تھے۔ ہاں ! سلامتی کا حصہ نسبتاً ہماری طرف زیادہ رہے گا۔ البدر جلد ۲ نمبر ۱۸ مورخه ۲۲ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه (۱۳۸) خدا تعالٰی نشانوں میں قیامت کا نمونہ دکھانا نہیں چاہتا اور نہ کبھی ایسا ہوا بلکہ ان میں کسی حد تک فنا ضرور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ میں سے بھی بعض ان جنگوں میں شہید ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تکلیف پہنچی لیکن انجام نے دکھایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نشان کیسا عظیم الشان تھا اسی طرح پر یہاں بھی ہے سلامتی کا حصہ نسبتاً ہماری ہی طرف زیادہ ہوگا۔ (الحکم جلدے نمبر ۱۹ مورخہ ۲۴ مئی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۹) تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ اور ہم یہ دن لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں یعنی کبھی کسی کی نوبت آتی ہے اور کبھی کسی کی اور عنایات الہیہ نوبت به نوبت امت محمدیہ کے مختلف افراد پر وارد ہوتے رہتے (براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۰۴ ، ۶۰۵ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ خاصہ ہے کہ پرانے خاندانوں کو چھوڑ کر کسی اور کو لے لیتا ہے جیسے بنی اسرائیل کو چھوڑ کر