تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 209

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ٢٠٩ سورة ال عمران اے مومنو ! مقابلہ سے ہمت مت ہارو اور کچھ اندیشہ مت کرو اور انجام کارغلبہ تمہیں کا ہے اگر تم آسمانی فیصلہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۳۳، ۳۳۴) واقعی طور پر مومن ہو۔إن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَد مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُهُ وَ تِلْكَ الْأَيَّامُ تدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَ لِيَعْلَمَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَ يَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءِ لا وَاللهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ ) (۱۴) یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ نشان بھی ہوتے ہیں اور ان میں التباس بھی ہوتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ مانگا گیا تو کہا کہ خدا قادر ہے۔خواہ آسمان سے نشان دکھلاوے یا بعض کو بعض سے جنگ کرا کر نشان دکھاوے چنانچہ جنگوں میں صحابہ بھی قتل ہوئے۔بعض کمزور ایمان والوں نے اعتراض کیا کہ اگر یہ عذاب ہے تو ہم میں سے لوگ کیوں مرتے ہیں اس پر خدا تعالیٰ نے فرمایا: إِنْ يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَشَ الْقَوْمَ فَرحُ مِثْلُهُ وَتِلْكَ الأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ الے پس اگر ہماری جماعت میں سے کوئی بھی نہ مرے اور کل تو میں مرتی رہیں تو کل دنیا ایک ہی دفعہ راہ راست پر آجاوے اور بجز اسلام کے اور کوئی مذہب دنیا پر نہ رہے حتی کہ گورنمنٹوں کو بھی مسلمان ہونا پڑے اور یہی سر تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی فوت ہوئے تھے۔ہاں ! سلامتی کا حصہ نسبتاً ہماری طرف زیادہ رہے گا۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۸ مورخه ۲۲ رمئی ۱۹۰۳ء صفحه ۱۳۸) خدا تعالیٰ نشانوں میں قیامت کا نمونہ دکھانا نہیں چاہتا اور نہ کبھی ایسا ہوا بلکہ ان میں کسی حد تک فناضرور ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ صحابہ میں سے بھی بعض ان جنگوں میں شہید ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تکلیف پہنچی لیکن انجام نے دکھایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نشان کیسا عظیم الشان تھا اسی طرح پر یہاں بھی ہے سلامتی کا حصہ نسبتاً ہماری ہی طرف زیادہ ہوگا۔(احکم جلدے نمبر ۱۹ مورخہ ۲۴ مئی ۱۹۰۳ صفحه ۹) تلك الأيام نداولها بَيْنَ النَّاسِ اور ہم یہ دن لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں یعنی کبھی کسی کی نوبت آتی ہے اور کبھی کسی کی اور عنایات الہیہ نوبت به نوبت امت محمدیہ کے مختلف افراد پر وارد ہوتے رہتے (براہین احمدیہ چہار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۰۵،۶۰۴ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) اللہ تعالیٰ کا یہ خاصہ ہے کہ پرانے خاندانوں کو چھوڑ کر کسی اور کو لے لیتا ہے جیسے بنی اسرائیل کو چھوڑ کر ہیں۔