تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 208
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۸ سورة ال عمران لازم ہے کہ انسان بدظنی اور غضب سے بہت بچے۔سوائے راست بازوں کے باقی جس قدر لوگ دنیا میں ہوتے ہیں ہر ایک کچھ نہ کچھ حصہ جنون کا ضرور رکھتا ہے جس قدر قومی ان کے ہوتے ہیں ان میں ضرور افراط تفریط ہوتی ہے اور اس سے جنون ہوتا ہے۔غضب اور جنون میں فرق یہ ہے کہ اگر سر سری دورہ ہو تو اسے غضب کہتے ہیں اور اگر وہ مستقل استحکام پکڑ جاوے تو اس کا نام جنون ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۳۱ مورخه ۲۱ /اگست ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۴۱) وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ یعنی مومن وہ ہیں جو غصہ کھا جاتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ عفو اور درگزر سے پیش آتے ہیں اور اگر چہ انجیل میں بھی عفو اور درگزر کی تعلیم ہے جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں مگر وہ یہودیوں تک محدود ہے دوسروں سے حضرت عیسی نے اپنی ہمدردی کا کچھ واسطہ نہیں رکھا اور صاف طور پر فرما دیا کہ مجھے بجز بنی اسرائیل کے دوسروں سے کچھ غرض نہیں خواہ وہ غرق ہوں خواہ نجات پاویں۔چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۹۵) وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِنْ نُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللهُ ۖ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَ هم يعلمون ص اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کا کام کریں یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اور پھر اپنے ایسے حال میں اللہ تعالی کو یاد کریں اور اُس سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں اور اپنے گناہ پر اصرار نہ کریں اُن کا خدا آمرز گار ہو گا اور گنہ بخش دے گا۔ظاہر ہے کہ جیسے خدا انسان کا اس طور سے مالک ہے کہ اگر چاہے تو اُس کے گناہ پر اس کو سزا دے۔ایسا ہی اس طور سے بھی اُس کا مالک ہے کہ اگر چاہے تو اُس کا گناہ بخش دے کیونکہ ملکیت سبھی متحقق ہوتی ہے کہ جب مالک دونوں پہلوؤں پر قادر ہو۔وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ اَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِينَ ® (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۶،۲۵) اورست مت ہو اور غم مت کرو اور انجام کار غلبہ تمہیں کو ہوگا اگر تم ایمان پر قائم رہو گے۔( براہین احمدیہ چہار حصص روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۹ حاشیہ نمبر ۱۱)