تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 207
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۷ سورة ال عمران آزاد بھی کیا۔راستبازوں کے نمونے ایسے ہیں کہ چاء کی پیالی گرا کر آزاد ہوا۔اب بتاؤ کہ یہ نمونہ اصول کی عمدگی ہی سے پیدا ہوا۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۸ مورخه ۳۱ جولائی ۱۹۰۱ ء صفحه ۳) اہل تقویٰ کے لیے یہ شرط تھی کہ وہ غربت اور مسکینی میں اپنی زندگی بسر کرے۔یہ ایک تقوی کی شاخ ہے جس کے ذریعہ ہمیں غضب ناجائز کا مقابلہ کرنا ہے بڑے بڑے عارف اور صدیقوں کے لیے آخری اور کڑی منزل غضب سے ہی بچتا ہے۔عجب و پندار غضب سے پیدا ہوتا ہے اور ایسا ہی کبھی خود غضب عجب و پندار کا نتیجہ ہوتا ہے کیونکہ غضب اس وقت ہوگا جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۴۹) ہے۔یا درکھو کہ عقل اور جوش میں خطرناک دشمنی ہے جب جوش اور غصہ آتا ہے تو عقل قائم نہیں رہ سکتی لیکن جو صبر کرتا ہے اور بردباری کا نمونہ دکھاتا ہے اس کو ایک نور دیا جاتا ہے جس سے اس کی عقل و فکر کی قوتوں میں ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نور سے نور پیدا ہوتا ہے غصہ اور جوش کی حالت میں چونکہ دل و دماغ تاریک ہوتے ہیں اس لیے پھر تاریکی سے تاریکی پیدا ہوتی ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۷ مورخہ ۱۰ رمئی ۱۹۰۲ صفحه ۶،۵) یا درکھو جو شخص سختی کرتا اور غضب میں آ جاتا ہے اس کی زبان سے معارف اور حکمت کی باتیں ہرگز نہیں نکل سکتیں، وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے جو اپنے مقابل کے سامنے جلدی طیش میں آکر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹھ لطائف کے چشمہ سے بے نصیب اور محروم کئے جاتے ہیں۔غضب اور حکمت دونوں جمع نہیں ہو سکتے جو مغضوب الغضب ہوتا ہے اس کی عقل موٹی اور فہم کند ہوتا ہے اس کو کبھی کسی میدان میں غلبہ اور نصرت نہیں دئے جاتے۔غضب نصف جنون ہے جب یہ زیادہ بھڑکتا ہے تو پورا جنون ہو سکتا ہے۔الحکم جلدے نمبر ۹ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۳ صفحه (۸) مرد کو چاہیے کہ اپنے قومی کو برمحل اور حلال موقعہ پر استعمال کرے مثلاً ایک قوت غضبی ہے جب وہ اعتدال سے زیادہ ہو تو جنون کا پیش خیمہ ہوتی ہے، جنون میں اور اس میں بہت تھوڑا فرق ہے۔جو آدمی شدید الغضب ہوتا ہے اس سے حکمت کا چشمہ چھین لیا جاتا ہے بلکہ اگر کوئی مخالف ہو تو اس سے بھی مغلوب الغضب ہو کر گفتگو نہ کرے۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۰ مورخہ ۲۷ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۷۳) دو قو تیں انسان کو منجر به جنون کر دیتی ہیں ایک بدظنی اور ایک غضب جبکہ افراط تک پہنچ جاویں۔۔۔پس