تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 206
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة ال عمران سخاوت سے دل تنگ نہیں ہو جاتے بلکہ تنگی کی حالت میں بھی اپنے مقدور کے موافق سخاوت کرتے رہتے ہیں۔وہ کبھی پوشیدہ خیرات کرتے ہیں اور کبھی ظاہر۔پوشیدہ اس لئے کہ تاریا کاری سے بچیں اور ظاہر اس لئے کہ تا دوسروں کو ترغیب دیں۔جاوے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۵ تا ۳۵۷) یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا عفو کے لائق ہے یا نہیں۔مجرم دو قسم کے ہوتے ہیں بعض تو اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان سے کوئی حرکت ایسی سرزد ہو جاتی ہے جو غصہ تو لاتی ہے لیکن وہ معافی کے قابل ہوتے ہیں اور (بعض) ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ان کی کسی شرارت پر چشم پوشی کی جاوے اور اس کو معاف کر دیا جاوے تو وہ زیادہ دلیر ہو کر مزید نقصان کا باعث بنتا ہے مثلاً ایک خدمتگار ہے جو بڑا نیک اور فرماں بردار ہے وہ چاء لا یا اتفاق سے اس کو ٹھوکر لگی اور چاء کی پیالی گر کر ٹوٹ گئی اور چاء بھی مالک پر گر گئی اگر اس کو مارنے کے لیے اٹھ کھڑا ہو اور تیز وتند ہو کر اس پر جا پڑے تو یہ سفاہت ہوگی یہ عفو کا مقام ہے کیونکہ اس نے عمد ا شرارت نہیں کی ہے اور عضو اس کو زیادہ شرمندہ کرتا اور آئندہ کے لیے محتاط بناتا ہے لیکن اگر کوئی ایسا شریر ہے ہے کہ وہ ہر روز توڑتا ہے اور یوں نقصان پہنچاتا ہے تو اس پر رحم ہی ہوگا کہ اس کو سزا دی اقام جلد ۵ نمبر ۱۳ مورخه ۱۰ ۱۷ پریل ۱۹۰۱ صفحه ۴) ہماری شریعت کا یہ حکم ہے کہ موقع دیکھو۔اگر نرمی کی ضرورت ہے خاک سے مل جاؤ۔اگر سختی کی ضرورت ہے سختی کرو۔جہاں عفو سے صلاحیت پیدا ہوتی ہو وہاں عفو سے کام لو۔نیک اور با حیا خدمتگار اگر قصور کرے تو بخش دو مگر بعض ایسے خیرہ طبع ہوتے ہیں کہ ایک دن بخشو تو دوسرے دن دگنا بگاڑ کرتے ہیں وہاں سز ا ضروری ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۸ مورخہ ۳۱؍ جولائی ۱۹۰۱ ، صفحہ ۴) کہتے ہیں کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نوکر چاء کی پیالی لایا جب قریب آیا تو غفلت سے وہ پیالی آپ کے سر پر گر پڑی آپ نے تکلیف محسوس کر کے ذرا تیز نظر سے غلام کی طرف دیکھا غلام نے آہستہ سے پڑھا الكظِمِينَ الْغَيْظَ یہ سن کر امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کظمت۔غلام نے پھر کہاؤ الْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ۔نظم میں انسان غصہ دبالیتا ہے اور اظہار نہیں کرتا ہے مگر اندر سے پوری رضا مندی نہیں ہوتی اس لیے عضو کی شرط لگا دی ہے آپ نے کہا کہ میں نے عفو کیا۔پھر پڑھا وَ اللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ محبوب الہی وہی ہوتے ہیں جو کظم اور عفو کے بعد نیکی بھی کرتے ہیں، آپ نے فرمایا جا