تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 205
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۵ سورة ال عمران عفو کے محل پر ہو، نہ غیر محل پر تو اس کا وہ بدلہ پائے گا۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ قرآنی تعلیم یہ نہیں کہ خواہ نخواہ اور ہر جگہ شر کا مقابلہ نہ کیا جائے اور شریروں اور ظالموں کو سزا نہ دی جائے بلکہ یہ تعلیم ہے کہ دیکھنا چاہئے کہ وہ محل اور موقعہ گناہ بخشنے کا ہے یا سزا دینے کا ہے۔پس مجرم کے حق میں اور نیز عامہ خلائق کے حق میں جو کچھ فی الواقعہ بہتر ہو وہی صورت اختیار کی جائے۔بعض وقت ایک مجرم گناہ بخشنے سے تو بہ کرتا ہے اور بعض وقت ایک مجرم گناہ بخشنے سے اور بھی دلیر ہو جاتا ہے پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اندھوں کی طرح صرف گناہ بخشنے کی عادت مت ڈالو۔بلکہ غور سے دیکھ لیا کرو کہ حقیقی نیکی کس بات میں ہے آیا بخشنے میں یا سزا دینے میں پس جو امر محل اور موقع کے مناسب ہو وہی کرو۔افراد انسانی کے دیکھنے سے صاف ظاہر ہے کہ جیسے بعض لوگ کینہ کشی پر بہت حریص ہوتے ہیں یہاں تک کہ دادوں پر دادوں کے کینوں کو یا در رکھتے ہیں۔ایسا ہی بعض لوگ عفو اور درگزر کی عادت کو انتہا تک پہنچا دیتے ہیں اور بسا اوقات اس عادت کے افراط سے دیوٹی تک نوبت پہنچ جاتی ہے اور ایسے قابل شرم حلم اور عفو اور درگزران سے صادر ہوتے ہیں جو سراسر حمیت اور غیرت اور عفت کے برخلاف ہوتے ہیں بلکہ نیک چلنی پر داغ لگاتے ہیں اور ایسے عفو اور درگزر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سب لوگ تو بہ توبہ کر اٹھتے ہیں۔انہیں خرابیوں کے لحاظ سے قرآن شریف میں ہر ایک خلق کے لئے محل اور موقع کی شرط لگا دی ہے اور ایسے خلق کو منظور نہیں رکھا جو بے محل صادر ہو۔یا در ہے کہ مجرد عفو کوخلق نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ ایک طبعی قوت ہے جو بچوں میں بھی پائی جاتی ہے۔بچہ کو جس کے ہاتھ سے چوٹ لگ جائے خواہ شرارت سے ہی لگے تھوڑی دیر کے بعد وہ اس قصہ کو بھلا دیتا ہے اور پھر اس کے پاس محبت سے جاتا ہے اور اگر ایسے شخص نے اس کے قتل کا بھی ارادہ کیا ہوتب بھی صرف میٹھی بات پر خوش ہو جاتا ہے۔پس ایسا عفو کسی طرح خلق میں داخل نہیں ہوگا۔خلق میں اسی صورت میں داخل ہوگا جب ہم اس کو شل اور موقع پر استعمال کریں گے ورنہ صرف ایک طبعی قوت ہوگی۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۲،۳۵۱) یعنی مومن وہی ہیں جو غصہ کو کھا جاتے ہیں اور یاوہ گو اور ظالم طبع لوگوں کے حملوں کو معاف کر دیتے ہیں اور بیہودگی کا بیہودگی سے جواب نہیں دیتے۔( مجموعہ اشتہارات ،صفحہ ۱۹۵ حاشیه) الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِى السّراء و الصراء۔۔۔۔۔و تکلیفوں اور کم آمدنی کی حالت میں اور قحط کے دنوں میں