تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 204
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۴ سورة ال عمران کتابیں اسلام ۔ کے رد میں تالیف کی گئیں، ہماری قوم میں مغل ، سید کہلانے والے اور شریف کہلانے والے عیسائی ہو کر اسی زبان سے سید المعصومین خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کو کوسنے لگے، صفدر علی اور عمادالدین وغیرہ کون تھے؟ امہات المومنین کا مصنف کون ہے؟ جس پر اس قدر واویلا اور شور مچایا گیا اور آخر کچھ بھی نہ کر سکے۔ اس پر بھی کہتے ہیں کہ ذلت نہیں ہوئی کیا تم تب خوش ہوتے کہ اسلام کا اتنار ہا سہا نام بھی باقی نہ رہتا تب محسوس کرتے کہ ہاں ! اب ذلت ہوئی ہے !!! آہ! میں تم کو کیوں کر دکھاؤں جو اسلام کی حالت ہو رہی ہے دیکھو! میں پھر کھول کر کہتا ہوں کہ یہی بدر کا زمانہ ہے، اسلام پر ذلت پر کا وقت آچکا ہے مگر اب خدا نے چاہا ہے کہ اس کی نصرت کرے چنانچہ اس نے مجھے بھیجا ہے کہ میں اسلام کو براہین اور حج ساطعہ کے ساتھ تمام ملتوں اور مذہبوں پر غالب کر کے دکھا دوں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس مبارک زمانہ میں چاہا ہے کہ اس کا جلال ظاہر ہو اب کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ (الحکم جلد ۵ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۱ صفحه ۵،۴ ) اس آیت میں بھی در اصل ایک پیشگوئی مرکوز تھی یعنی جب چودھویں صدی میں اسلام ضعیف اور ناتوان ہو جائے گا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ اس وعدہ حفاظت کے موافق اس کی نصرت کرے گا۔ پھر تم کیوں تعجب کرتے ہو کہ اس نے اسلام کی نصرت کی ؟ (الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۶ مورخه ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۶ صفحه ۵) الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ دوسری قسم ان اخلاق کی (ہے) جو ایصال خیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلا خلق ان میں سے عفو ہے یعنی کسی کے گناہ کو بخش دینا۔ اس میں ایصال خیر یہ ہے کہ جو گناہ کرتا ہے وہ ایک ضرر پہنچاتا ہے اور اس لائق ہوتا ہے کہ اس کو بھی ضرر پہنچایا جائے ، ہز ا دلائی جائے، قید کرایا جائے ، جرمانہ کرایا جائے یا آپ ہی اس پر ہاتھ اٹھایا جائے ۔ پس اس کو بخش دینا اگر بخش دینا مناسب ہو تو اس کے حق میں ایصال خیر ہے۔ اس میں قرآن شریف کی تعلیم یہ ہے : وَ الْكَظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ جَزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ۚ فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللهِ (الشوری : (۴۱) یعنی نیک آدمی وہ ہیں جو غصہ کھانے کے محل پر اپنا غصہ کھا جاتے ہیں اور بخشنے کے محل پر گناہ کو بخشتے ہیں۔ بدی کی جزا اسی قدر بدی ہے جو کی گئی ہو لیکن جو شخص گناہ کو بخش دے اور ایسے موقعہ پر بخشے کہ اس سے کوئی اصلاح ہوتی ہو، کوئی شر پیدا نہ ہوتا ہو یعنی عین